دو دفعہ کا ذکر ہے


ایک دفعہ کا ذکر ہے؛
محفل برخاست ہوئی۔ ایک صاحب اٹھے۔ رخصت چاہی۔
چلتے وقت، دماغ میں اسی خیال کی بازگشت رہی؛

عجیب ہوتے ہیں آدابِ رُخصتِ محفل
کہ اُٹھ کے وہ بھی چلا، جِس کا گھر نہ تھا کوئی

(سحر انصاری)


غم کی شدت بڑھی۔ دربدری کے در پر بِنا دستک دیے ہی وہ خُود میں کہیں روپوش ہو گئے۔




دوسری دفعہ کا ذکر ہے؛
ایک صاحب تھے۔ کسی کو رُخصت کرنے گئے۔ اسے گاڑی میں بٹھایا۔ الوداع کیا۔ واپسی پر دِل میں یہی خیال گونجتا رہا۔

گھر کے بارے میں یہی جان سکا ہوں اب تک
جب بھی لوٹو کوئی دروازہ کھُلا ہوتا ہے

(صغیر ملال)


گھر پہنچے۔ دروازہ کھُلا تھا۔ اندر داخل ہوئے۔
اچانک انکشاف ہوا، گاڑی میں تو وہ خود ہی بیٹھ گئے تھے۔ واپس تو وہ آیا، جسے رخصت کرنے گئے تھے۔

غم کی شدت بڑھی۔ اپنی ہی چوکھٹ پر بیٹھ کر اپنا انتظار کرنے لگے۔

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top