اک عمر سر کھپا کے ہی جو کچھ مِلا، مِلا
ورنہ انسان مر گیا ہوتا
کوئی بے نام جستجو ہے ابھی
(شاعرہ: ادا جعفری)
زولا کی تگ و دو کا طویل سفر
’’اکثر میں اتنی دیر تک بھوکا رہتا تھا کہ لگتا تھا میں اب مرنے ہی والا ہوں۔ مہینوں گوشت کا ذائقہ تک نہ چکھ پاتا۔ دو دِن تو میں نے صرف ایک سیب پر گزارا کیا۔ سخت سرد راتوں میں آگ کی سہولت بھی بس ایک خواب ہی تھی؛ اور تب تو میں پیرس کا خوش قسمت ترین انسان ہوتا تھا جب مجھے ایک موم بتی میسر آ جاتی، جس کی روشنی میں رات کو مطالعہ کر سکتا۔‘‘
درج بالا الفاظ فرانس کے عظیم ادیب، صحافی اور سیاسی کارکن زولا کے ہیں،
جس نے؛
بیس جلدوں پر مشتمل ناولوں کا ایک سلسلہ ’لی روگون۔مارکا‘ لکھا۔
متعدد شہرہ آفاق ادبی ناولز اور بے شمار تنقیدی مضامین قلمبند کیے۔
جسے اپنی تحریروں کی وجہ سے دو بار نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا۔
جسے ادب میں فطری حقیقت نگاری کا اہم ترین نام سمجھا جاتا ہے۔
جس نے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور اپنے اختلافی نظریات کی وجہ سے جلا وطن بھی ہونا پڑا۔
نہیں کہ زندگی ہمیں کہاں کہاں لیے پھری
ہے یوں کہ ہم گئے اسے کہاں کہاں لیے ہوئے
(شاعر: شہاب سرمدی)
جب اس کے والد کا انتقال ہوا، تو زولا محض سات برس کا تھا۔ اس کی تعلیم ادھوری رہی۔ شدید مالی مشکلات کا سامنا رہا۔ اکثر فاقہ کشی برداشت کرنی پڑی۔
رابرٹ کولیئر کہتا ہے،
’’ کامیابی ان چھوٹی چھوٹی کاوشوں کا مجموعہ ہے، جو دن رات مسلسل کی جائیں۔‘‘
یہی وہ استقامت ہے، جو انسان کو زمانے میں بلند مقام عطا کرتی ہے۔ یہی وہ طاقت ہے جس کے آگے تمام رکاوٹیں ہار مان لیتی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے قدم جو مسلسل آگے بڑھنے کی امید پر اٹھتے چلے جائیں، وہ تھوڑی دیر کے لیے شدت سے تیز ترین دوڑ سے بہتر ہیں۔ ایسی بے لگام دوڑ کی بجائے، اگر درست سمت کا تعین کر لیا جائے اور پھر استقامت سے اسی راہ پر دھیرے دھیرے چلا جائے تو منزل تک رسائی خواب نہیں رہتا۔
زولا جانتا تھا، آرٹسٹ اپنی صلاحیت کے بغیر کچھ نہیں مگر صلاحیت بھی مشقت کے بغیر کسی کام کی نہیں۔ اس کی یہ بات زندگی میں استقامت کی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے;
’’اگر میں اپنے معیاری کام سے اثر نہیں ڈال سکتا تو میں اپنے کام کی کثرت سے خود کو منوا کر ہی رہوں گا۔‘‘
یعنی آپ اپنے بہترین تک نہیں پہنچ پا رہے تو رکنا حل نہیں۔ مسلسل محنت کی بدولت انسان کمال تک پہنچنے کا راستہ دریافت کر لیتا ہے۔
اک جست میں تو کوئی نہ پہنچا کمال تک
اک عمر سر کھپا کے ہی جو کچھ مِلا، مِلا
(شاعر: سعید الظفر چغتائی)
کامیابی وقت مانگتی ہے۔
کوئی بیج زمین پر گرتے ہی درخت نہیں بن جاتا۔ اسے پروان چڑھنے کے لیے، مٹی کی آغوش میں، کئی حیاتیاتی تبدیلیوں کے ایک پیچیدہ عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ کوئلہ ہیرے کا روپ دھارنے کے لیے کرہ ارض کے نہاں خانے میں شدید تپش اور غیر معمولی دبائو کے مراحل سے صدیوں گزرتا ہے۔ سیپ کے سینے میں ایک معمولی سے ریت کے ذرے کا موتی بننے کا عمل طویل ترین صبر آزما ریاضت کا نتیجہ ہے۔ شہد کا محض ایک قطرہ شہد کی مکھیوں کی میلوں لمبی مسافت اور ان گنت پھولوں کے رَس کا نچوڑ ہے۔ ریشم کا نازک دھاگا ریشم کے کیڑے کی پوری زندگی کی یکسوئی اور انتھک بُنت کا حاصل ہے۔
کارسَن کی صبر آزما مسافت
امریکہ کی باکمال خاتون کارسَن انتیس برس کی عُمر میں فالج کے تِین حملوں کے بعد جزوی طور پر مفلوج اور مسلسل جِسمانی اذیت سے دوچار رہی اور تقدیر کی مزیدسِتم ظریفی یہ کہ اُس کے شوہر نے خُودکشی کر لی۔
وہ مسلسل اسی آزمائش سے دو چار رہی؛
کس طرح جمع کیجئے اب اپنے آپ کو
کاغذ بکھر رہے ہیں، پُرانی کتاب کے
(شاعر: عادل منصوری)
مگر وہ ایسی بہادر خاتون تھی کہ پے در پے مسائل کے باوجود اپنے حوصلے کو قائم رکھ کے زندگی سے لڑتی رہی اور 1967ء میں پچاس برس کی عُمر میں جب دُنیا سے رُخصت ہوئی تو وہ؛
’دی سیلڈ آف دی سیڈ کیفے‘ (The Salad of Sad Cafe)،
’دی میمبر آف دی ویڈنگ‘ (The Member of Wedding) اور
’دی ہارٹ اِز آ لونلی ہَنٹر‘ (The Heart is a Lonely Hunter)
جیسے بہترین ناولز تخلیق کر چُکی تھی۔
’’اس دنیا میں واحد خوشی آگے بڑھنے کی مسلسل کوشش اور جدوجہد میں پوشیدہ ہے۔‘‘ (زولا)
🌹 Sharing is Caring 🌹