کہنے والے ٹھیک کہتے ہیں سبھی اپنی جگہ

’بصارت وہیں تک کام کرتی ہے، جہاں تک بصیرت ساتھ دیتی ہے۔‘ (رابرٹ ڈیویز)




خوش قسمتی وہم ہے، مہارت نہیں

ایک کسان اپنی پسندیدہ گائے کے بارے میں فکر مند ہے۔ اس کی پریشانی محسوس کر کے گوالا اسے بتاتا ہے کہ وہ ابھی ادھر سے ہی آیا ہے، گائے کھیت میں خوشی سے چَر رہی ہے۔ یہ سُن کر کسان کہتا ہے، وہ ننانوے فی صد اندازے پر بھروسا کرنے کی بجائے اس دعوے پر سو فیصد یقین چاہتا ہے۔ وہ خود دروازے سے باہر نکل کر دور درختوں کے پیچھے ایک سفید اور سیاہ شکل دیکھتا ہے اور اپنی گائے کو دور سے ہی پہچان لیتا ہے۔

گوالا کہتا ہے، وہ بھی دوبارہ جا کر چیک کرے گا۔ وہ خود کھیت میں چلا جاتا ہے۔ وہاں دیکھتا ہے, گائے ایک گڑھے میں جھاڑی کے پیچھے سو رہی ہے۔ اسے حیرت ہوتی ہے، دروازے سے تو یہ بالکل نظر نہیں آ سکتی تھی۔ پھر وہ درخت میں پھنسا ہوا سفید اور سیاہ کاغذ کا ایک بہت بڑا ٹکڑا دیکھتا ہے۔ جسے کسان نے گائے سمجھ لیا تھا۔

کسان نے دور سے اپنی آنکھوں سے گائے دیکھ کر یقین کر لیا تھا, گائے کھیت میں ہی ہے اور گائے واقعی وہیں تھیں۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کسان کا ’جواز‘ غلط تھا۔ اس نے دور سے کاغذ کا بڑا سا ٹکڑا دیکھا تھا، گائے نہیں۔
صرف خوش قسمتی سے سچ ہونے والی اس بات کو ’علم‘ نہیں کہا جا سکتا۔

درحقیقت، اسے اپنی گائے دیکھنے کی تڑپ اس قدر تھی کہ اس کے دماغ نے ایک بے جان کاغذ کو گائے کی شکل میں دکھا دیا۔ اسے ادراکی تکمیل (Cognitve Closure) کہتے ہیں، یعنی دماغ ادھوری معلومات کو اپنی مرضی سے مکمل کر لیتا ہے۔

کسان کو یقین تو ہو گیا کہ وہ جانتا ہے، لیکن وہ تکنیکی طور پر نہیں جانتا تھا۔
دراصل، سچائی تک پہنچنے کا رستہ بھی اتنا ہی اہم ہے، جتنی کہ وہ سچائی خود۔
آپ غلط رستے پر چل کر صحیح منزل پر پہنچ بھی جائیں تو یہ آپ کی مہارت نہیں، محض ایک اتفاق ہے۔

’’خوش قسمی کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ وہاں بھی مہارت کا وہم پیدا کر دیتی ہے جہاں حقیقت میں کوئی مہارت موجود نہیں ہوتی۔‘‘ (ڈینییل کاہینمن)




کہنے والے ٹھیک کہتے ہیں سبھی اپنی جگہ

فلسفے کی دنیا میں اسے گیٹیئرپرابلم (Gettier Problem) کہا جاتا ہے۔
ایڈمنڈ گیٹیئر نے اپنے ایک مقالے میں ثابت کیا، جسے ہم ’علم ‘ سمجھتے ہیں، وہ محض ایک ’خوش قسمتی‘ بھی ہو سکتی ہے۔
افلاطون کے زمانے سے یہی مانا جاتا تھا، اگر آپ کے پاس یہ تین چیزیں ہیں تو آپ کے پاس ’علم‘ ہے۔

٭ عقیدہ: آپ کسی بات پر یقین رکھتے ہوں۔
٭ جواز: آپ کے پاس اس بات کو ماننے کے لیے کوئی ٹھوس وجہ ہو۔
٭ سچائی: وہ بات حقیقت میں سچی ہو۔

گیٹیئر کے خیال میں، کبھی کبھی یہ تینوں چیزیں آپ کے پاس ہونے کے باوجود، آپ اسے علم نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ کسی بات کا سچ ثابت ہو جانا، فقط اتفاق بھی تو ہو سکتا ہے۔
فرض کریں، کسی کمرے کی دیوار پر آپ ایک گھڑی دیکھتے ہیں۔ گھڑی 10 بجے کا وقت دکھا رہی ہے۔

٭ عقیدہ: آپ یقین کر لیتے ہیں کہ 10 بجے ہیں۔
٭ جواز: آپ نے گھڑی دیکھی ہے، جو ایک ٹھوس ثبوت ہے۔
٭ سچائی: اتفاق سے اس وقت واقعی 10 بجے ہیں۔

لیکن اگر وہ گھڑی کچھ دن سے خراب پڑی ہے اور10 بجے پر رکی ہوئی ہے تو؟
آپ کا عقیدہ سچا نکلا اور آپ کے پاس اس کا معقول جواز بھی ہے لیکن کیا آپ کو واقعی ’علم‘ تھا کہ 10 بجے ہیں؟
نہیں۔
آپ نے تو اتفاق سے ٹھیک اس وقت گھڑی پر وقت دیکھا جب حقیقت میں 10 ہی بجے تھے۔

کچھ نہ کچھ سچائی ہوتی ہے نہاں ہر بات میں
کہنے والے ٹھیک کہتے ہیں سبھی اپنی جگہ

(شاعر: انور شعور)


’خوش قسمتی‘ علم کا حصہ نہیں ہو سکتی۔ آپ کی معلومات کسی غلط بنیاد پر استوار ہوں، تو چاہے وہ اتفاق سے سچی بھی ثابت ہو جائیں، وہ علم نہیں کہلائیں گی۔
ژوانگزی کہتا ہے، جب آنکھ پر کوئی پردہ نہ ہو تو نتیجہ ’بینائی‘ ہے اور جب عقل پر کوئی پردہ نہ ہو تو نتیجہ ’سچائی‘ ہے۔ علم صرف وہ ہے جو ایک غیر متعصب ذہن، شفاف ماحول میں بغیر کسی دھوکے کے حاصل کرے۔



ہمیں وہ باتیں مشکل میں نہیں ڈالتیں جنہیں ہم نہیں جانتے، بلکہ وہ باتیں لے ڈوبتی ہیں جنہیں ہم یقینی سچ سمجھتے ہیں حالانکہ وہ سچ نہیں ہوتیں۔ (مارک ٹوئن)

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top