راکھ بننے کا حوصلہ تو کریں
ہمارے جذبات ہی اصل ققنس ہیں؛ جب ایک ختم ہوتا ہے تو اس کی راکھ سے نیا جذبہ جنم لیتا ہے۔
(گوئٹے)
راکھ سے دوبارہ جنم
ققنس ایک ایسا افسانوی پرندہ ہے جس کا ذکر مختلف روایات میں مختلف ناموں سے ملتا ہے۔ یہ پرندہ اپنی خوبصورتی اورمسحور کن آواز میں اپنی مثال آپ ہے۔ صدیوں زندہ رہنے والا یہ پرندہ اپنی زندگی کے اختتام پر لکڑیاں اکٹھی کرتا ہے۔ ان پر بیٹھ کر دیپک راگ گاتا ہے تو لکڑیوں کو آگ پکڑ لیتی ہے۔ اپنے پروں سے بھڑکائی ہوئی اسی آگ میں یہ پرندہ جل کر راکھ ہو جاتا ہے۔ پھر بارش ہوتی ہے اور اس کی راکھ سے ایک انڈا بنتا ہے جس سے اس کا دوبارہ جنم ہوتا ہے اور یہ پھر سے پرواز شروع کر دیتا ہے۔
یہ علامتی کہانی ظاہر کرتی ہے؛ راکھ ہمیشہ اختتام کی علامت نہیں ہوتی، ایک نئی شروعات کا آغاز بھی ہے۔ مگر اس کے لیے اپنے ہی پروں سے آگ بڑھکا کر اس کے اندر جلنے کا حوصلہ چاہیے ۔
دوبارہ جینے کے لیے مرنا ضروری ہے
ڈان نِکس لکھتا ہے؛
’’ہر کوئی ہنسنا چاہتا ہے
لیکن رونا کوئی بھی نہیں چاہتا
پھرکہتا ہوں؛ ہر کوئی ہنسنا چاہتا ہے لیکن رونا کوئی بھی نہیں چاہتا
ہر کوئی جنت میں جانا چاہتا ہے لیکن مرنا کوئی بھی نہیں چاہتا‘‘
ہم اکثر حالات کی دہکتی ہوئی آگ میں کودنے سے ڈرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آزمائش کے ان کڑے مراحل سے گزرے بغیر ہی سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ اسی بلاجواز رویے پر شاعر نے خوب طنز کیا ہے؛
پھول ہی ہاتھ لگیں، ہاتھ میں کانٹے نہ چبھیں
آپ بھی آئے ہیں کیا خوب تمنا لے کر
(شاعر: نامعلوم)
شکست اس کے علاوہ اور کیا ہے کہ ہم آگے بڑھنا چھوڑ دیں۔
زوال اس کے سوا اور کچھ بھی نہیں کہ ہمارے اندر عروج کی تمنا باقی نہ رہے۔
رائیگانی یہی ہے کہ ہم گر کر گرے رہنے کو ہی اپنا مقدر مان لیں اور پھر سے اٹھنے کی کوشش ترک کر دیں۔
’’ ققنس کو دوبارہ جنم لینے کے لیے پہلے خود جلنا پڑتا ہے۔‘‘
(جینیٹ فِچ)
دانا لوگ کہتے ہیں؛ خالص سونا آگ سے کبھی نہیں ڈرتا۔ کیونکہ اسی آگ میں جل کر ہی وہ کندن بنتا ہے۔
بہادر وہی ہیں جو اپنی حصے کی آگ میں خود ہی بے خطر کودنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ اور پکار اٹھتے ہیں؛
کندن ہوئے ہیں آگ بھی اپنی لگا کے ہم
ہم پر کسی سنار کی مرضی نہیں چلی
(شاعر: عاطف جاوید عاطف)
مصوری کا ققنس: جان جیمز آڈوبن
جان جیمز آڈوبن مشہور امریکی مصور تھا۔ اسے پرندوں کی مصوری کے حوالے سے شہرت حاصل تھی۔ اس کی شاہکار کتاب ’دی برڈز آف امیریکا‘ پرندوں کے حوالے سے ایک بہترین کتاب تصور کی جاتی ہے۔
ابتدائی زندگی تگ و دو میں گزری۔ کاروبار میں ناکامی کی وجہ سے قرض میں ڈوبا رہا۔ اسی وجہ سے جیل بھی گیا۔ مگر یہ بہادر شخص ققنس کی طرح حالات کی آگ میں جل کر بھی اپنی امید اور مقصد کو ہر بار نیا جنم دیتا رہا۔
امریکا کے دور دراز جنگلوں اور وادیوں میں دشوار گزار سفر کیے اور پرندوں کی تصاویر بنانا شروع کر دیں۔ وہ زندہ پرندوں یا حال ہی میں شکار کیے گئے پرندوں کی مصوری کرنا پسند کرتا تھا۔ وہ فطرت کے تحفظ کا علمبردار بھی تھا۔
اس کی زندگی میں ایک ایسا تکلیف دہ مرحلہ آیا، جب اسے معلوم ہوا کہ اس کی دو سو قیمتی تصاویر، جنہیں اس نے کئی برس تک جنگلوں کی خاک چھان کرتخلیق کیا تھا، چوہوں نے تباہ کر دی ہیں۔ یہ صدمہ بہت گہرا تھا۔ وہ کئی ہفتوں تک بیمار رہا۔
البرٹ کامیو کا قول ہے؛
’شدید مایوسی کے عالم میں ہی، میں نے اپنے اندر ایک ناقابل شکست امید دریافت کی۔‘
یہی وہ لمحہ بھی تھا جب آڈوبن نے خود کو احساس دلایا کہ دوام پانے کے لیے اس کے اندر کے مصور کو دوبارہ زندہ کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
اس نے پھر سے اپنی بندوق اٹھائی، پنسلیں لیں اور ایک بار پھر جنگلوں کی گہرائیوں میں اتر گیا۔
مقصد کی پختگی ہمیں دلیر بنا دیتی ہے۔
پرندوں کا فلسفی: رچرڈ باخ
امریکی مصنف رچرڈ باخ نے کالج میں بس سالِ اوّل تک تعلیم مکمل کی اور ایئرفورس جیٹ فائٹرپائلٹ میں تربیت کے لیے شمولیت اختیار کی۔ تربیت کی تکمیل کے اٹھارہ سال بعد ہی اس نے استعفا دے دیا اور شعبہ ہوابازی کے میگزین میں بطور مدیر خدمات سرانجام دینا شروع کر دیں مگر کچھ عرصے بعد تنگی حالات سے دیوالیہ ہو گیا۔ جو تدبیر کی، ناکام رہی۔
’جو لڑتا ہے وہ ہار سکتا ہے مگر جو نہیں لڑتا وہ پہلے ہی ہار چکا ہوتا ہے۔‘ (بریخت)
اُس نے اپنا ناول ’جوناتھن لِوِنگ سٹون سِیگَل‘(Jonathan Livingstone Segall) لکھنا شروع کیا تو اس کا انجام نہ لکھ پایا۔ آٹھ سال تک مسودہ یونہی نامکمل پڑا رہا اور بالآخر اس نے اسے مکمل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
18 پبلشرز نے مسودّہ رد کر دیا مگر جب یہ کتاب شائع ہوئی تو مختلف زبانوں میں اس کتاب کی ستر لاکھ کاپیاں فروخت ہوئیں اور محض ایک کتاب کی بدولت عالمی شہرت کا حامل ایک معتبر ادیب بن گیا۔
راکھ بننے کا حوصلہ تو کریں
کامیابی اس کے سوا اور کیا ہے کہ ہم زندگی کی جنگ میں آخری سانس تک لڑنے کا ہمت کریں۔
عروج اس کے سوا اور کچھ بھی نہیں کہ ہمارا زوال کسی صورت ہم سے عروج کی تمنا نہ چھین پائے۔
کامرانی یہی ہے کہ ہم اپنی شکست کو تقدیر مان کرگزر بسرکرنے کی بجائے آگے بڑھنے کے عزم سے پیچھے نہ ہٹیں۔
’’ آپ کو اپنے ہی شعلوں میں جلنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ آپ بھلا از سر نوکیسے اٹھ پائیں گے اگر پہلے آپ راکھ نہیں بن جاتے؟ (نطشے)
🌹 Sharing is Caring 🌹