یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے
فرہاد کو اک عزم نے فرہاد کیا ہے
میر تقی میر کہتے ہیں؛
عشق اک میر بھاری پتھر ہے
کب یہ مجھ ناتواں سے اٹھتا ہے
عشق ایک ایسی بھاری ذمہ داری ہے، جو ناتواں کے کندھے پر پڑتے ہی اسے کچل دیتی ہے۔ اور ناتوانی یہاں کسی جسمانی کمزوری کا نام نہیں’؛ یہ عزم و ہمت کی کمی ہے۔ فرہاد بننے کے لیے رستم و سہراب کے جیسا جثہ درکار نہیں ہوتا بلکہ ’فرہاد کو اک عزم نے فرہاد کیا ہے۔‘
عشق ایسا نصب العین ہے، جو انسان کو منزل پر پہنچنے کے لیے بے تاب رکھتا ہے۔ وہ کسی اندیشہ طوفاں سے خوف کھانے کی بجائے طوفان کے سامنے ڈٹ کر کھڑی رہنے والی چٹان بن جاتا ہے۔
عشق وہ صبر ہے، جو انسان کو استقامت سکھاتا ہے۔ وہ ہر مشکل اور پریشانی پر صبر و استقلال کا مظاہرہ کرتا ہے۔
ملٹن کہتا ہے؛
’’وہ بھی خدمت کرتے ہیں، جو کھڑے رہتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں۔ ‘‘
اپنی بینائی چھن جانے پر ملٹن انتہائی بے قرار تھا کہ اب وہ کام کرنے سے محروم ہو گیا مگر آخر کار اسے احساس ہوا؛
خدا کی خدمت صرف سر گرمِ عمل رہنے میں نہیں بلکہ صبر و رضا اور خاموش رضامندی میں بھی ہے۔
ہرمن ہیسے کے کردار سدھارتھ کے بقول صبر کی اصل پہچان یہی ہے؛
’میں کھڑا رہ سکتا ہوں۔ میں انتظار کر سکتا ہوں ۔ میں فاقہ کر سکتا ہوں۔‘
عشق وہی پہلا قدم ہے، جسے اٹھانے کے لیے آسمان سر پر اٹھانے جیسی ہمت چاہیے اور زمین کو آسمان پر دے مارنے کی جرات بھی۔
عشق اسی عظیم جذبے کا حصول ہے، جس میں انسان جسم کی موت کی بجائے دِل کی موت سے ڈرتا ہے۔
عشق ہی بادشاہ بناتا ہے
اورعشق جب اپنے مقصد سے ہو جائے تو انسان کیسا بھی مفلس ہو، عشق اسے بادشاہ بنا کے چھوڑتا ہے۔
بالزاک ادیب بننا چاہتا تھا۔ اس کے والد نے اسے خبردار کیا؛
’’کیا تم جانتے ہو ،ادب میں انسان یا تو بادشاہ بنتا ہے یا پھر فقیر؟‘‘
بالزاک نے جواب دیا، ’’ اچھا یہ بات ہے۔ تو میں پھر بادشاہ بنوں گا۔‘‘
دعوی کرنا آسان ہے مگر اسے ثابت کرنے کے لیے، اسی عشق کی ضرورت ہے جو آپ سے اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ، انتظار کرنے کی جرات اور فاقوں کو برداشت کرنے کی ہمت مانگتا ہے۔
بالزاک کے والدین اس کے مصنف بننے کے فیصلے سے خوش نہیں تھے۔ بالزاک نے خود کو تسلیم کروانے کے لیے ایک کوٹھری میں لکھنا شروع کر دیا۔ اس کی پہلی تصنیف ’کرامویل‘ مکمل طور پر ناکام رہی۔
اپنے ہونے کا اعتبار کیا
ایک نقاد نے ان الفاظ میں اس پر سخت تنقید کی؛
’’ یہ مصنف کوئی بھی کام کر سکتا ہے، سوائے ادب کے۔‘‘
مگر بالزاک اسی فلسفے پر قائم رہا ؛
سب نے رَد کر دیا تو پھر میں نے
اپنے ہونے کا اعتبار کیا
(شاعر: میر احمد نوید)
اس نے اپنے معاشی حالات کی بہتری کے لیے سنسنی خیز اور تجارتی ناول بھی لکھے۔ کاروبار میں بھی خود کو آزمایا مگر ناکامی اور پرتعیش زندگی گزارنے کے شوق نے اسے قرض میں مبتلا رکھا۔
اور پھر وہ تخلیقی کام میں دن رات مصروف رہنے لگا۔ روز مسلسل سولہ گھنٹے لکھتا رہتا۔
اس نے دس برس تک تنگی اور مفلسی کے ساتھ ہولناک جنگ لڑی اور تب تک لڑتا رہا جب تک فتح حاصل نہیں ہوئی۔ اور یہ فتح اسے ان چالیس ناولوں کی تخلیق کے بعد ملی جو ناکام ہو چکے تھے۔
بوجھ وہ ناتواں اٹھا لایا
اس کے بادشاہ بننے کا عزم، اس بات کی توثیق تھی؛
اس میں عشق کے بھاری پتھر کو اٹھانے کی ہمت تھی، اور اس نے اپنے ٹیلنٹ سے زیادہ اپنی ثابت قدمی سے اس بات کا عمل ثبوت پیش کیا۔
وہ خود کہتا تھا؛
’’ عظیم قوتِ ارادی کے بغیر عظیم ٹیلنٹ جیسی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی۔‘‘
اور
’’ جب ہم اپنی طاقت پر شک کرتے ہیں تو ہم اپنے شک کو طاقتور بنا دیتے ہیں۔‘‘
یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے
ہوا کی اوٹ بھی لے کر چراغ جلتا ہے
(شاعر: منظور ہاشمی)
🌹 Sharing is Caring 🌹