اپنی تنقید سے دوسروں کی تعمیر کریں۔


’تنقید بارش کی مانند ایسی نرم ہونی چاہیے کہ وہ اس کی جڑوں کو تباہ کیے بغیراس کی نشوونما میں مدد کرے۔‘
(فرینک کلارک)


پولی کلائِیٹس نے تنقید کا سامنا کیسے کیا؟

عظیم مجسمہ ساز پولی کلائِیٹسِ نے ایک ہی موضوع پر دو مجسمے بنائے۔ ایک مجسمہ، لوگوں کی خواہش کو مدنظر رکھ کر اور دوسرا آرٹ کے کڑے اصولوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے بنایا۔ وہ لوگوں کی تنقیدی آرا کے مطابق ” بہتری” لانے کے لیے پہلے مجسمے میں ترامیم کرتا رہا۔ جب دونوں مجسموں کی اکٹھے نمائش کی گئی تو پہلے مجسمے پر خوب تنقید کی گئی جب کہ دوسرے مجسمے کی سب نے دل کھول کر ستائش کی ۔ اس کے ردعمل میں، پولی کلائِیٹس نے کہا،
” یہ مجسمہ، جس میں آپ کو بے شمار عیب نظر آ رہے ہیں، آپ ہی کے تنقیدی مشوروں کا حاصل ہے اور یہ دوسرا مجسمہ وہ ہے، جسے میں نے تخلیق کیا’۔



سیلف سینسرشپ سے اجتناب کیجیے۔

لوگوں کی بے جا تنقید ہمیں ’سیلف سینسرشپ‘ پر مجبور کر دیتی ہے اور ہم اپنی اصل تخلیق سے دور ہو جاتے ہیں۔ سارتر کہتا ہے؛ ’جہنم دوسرے لوگ ہیں۔‘ یعنی ہم خود کو دوسروں کی نظروں کے مطابق خود کو ڈھالنے میں لگے رہتے ہیں۔ یہی رکاوٹ ہمیں خود کو ویسا بننے میں حائل ہوجاتی ہے، جیسے کہ ہم ہیں۔
دانشمندی یہی ہے؛ ہم دوسروں کی اسی تنقید کو خاطر میں لائیں جو ہماری تعمیر کرنے میں معاون ہو۔ اکثر نقادوں کی تنقید میں اپنی ہی ذات کی محرومیاں چھپی ہوتی ہیں یا پھر ان کی تنقید اتنی سطحی ہوتی ہے کہ فن کی گہرائیوں سے ناآشنا ہونے کے باوجود محض فنکار کی حوصلہ شکنی اور خود کو برتر ثابت کرنے کے لیے ہوتی ہے۔

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top