قابل رحم سے قابل رشک تک
’تمہار درد اس خول کا ٹوٹنا ہے جو تمہاری عقل کو گھیرے ہوئے ہے۔‘
(خلیل جبران)
مشکلات کے دوران ڈٹ کر کھڑا رہنا اور خود کو ہر طرح کی جدوجہد کے لیے آمادہ رکھنا، انسان کو ناقابل شکست بنا دیتا ہے۔ کونوسکے میٹسُشتا کا بچپن کسمپرسی میں گزرا لیکن اس نے حالات پر الزام دینے کی بجائے اپنے حوصلے کو بلند رکھا، شکایت کی بجائے، ہمت کو جواں رکھا، اور قابل رحم بننے کی بجائے قابل رشک بننے کا مشکل رستہ چنا۔ مختصر سی ابتدائی تعلیم کے بعد، محض نَو برس کی عُمر میں روزگار کے سِلسِلے میں، اسے اپنا خاندان چھوڑ کر دُوسرے شہر جانا پڑا۔وہ کہتا ہے؛ ’حقیقی دانش صرف کتابوں سے نہیں بلکہ روزمرہ کے تجربات، ناکامیوں اور مسائل کو حل کرنے کی کوششوں سے آتی ہے۔‘
اپنی عُمر کی بِیس کی دہائی میں، اسے پھیپھڑوں کے موذی مرض کا روگ لگ گیا اور ڈاکٹروں نے اسے چھ ماہ تک مکمل آرام کا مشورہ دِیا۔ مگر، تنگ دستی اسے یہ سہولت بھلا کب دینے والی تھی۔ وہ اس بات سے بخوبی آشنا تھا، کہ؛
’ جب ہم کسی صورت حال کو بدلنے کے قابل نہیں رہتے تو پھر ہمیں خود کو بدلنے کا چیلنج درپیش ہوتا ہے۔‘ (وکٹر فرینکل)
سخت مشقت کے بعد، جب اس نے’ میٹسشتا الیکٹرک‘ کے نام سے ایک کمپنی کھولی تو کاروبار میں ایسی مَندی آئی کہ وہ تقریباً دیوالیہ ہو گیا۔دُوسری جنگِ عظیم کے بعد، الائیڈ فورسز نے بھی شدید قِسم کی پابندیاں نافذ کردِیں۔ پھِر بھی میٹ سُشتا خود کو ہمیشہ خوش قِسمت ہی تصور کرتا رہا۔ اُس نے نہ صِرف اپنی قِسمت کو خُوش دِلی سے قبُول کِیا بلکہ ہمیشہ اُس کے روشن پہلو پَر ہی نظر رکھی۔ یہی وہ جذبہ تھا، جِس کی بدولت اُس نے چھوٹی سی الیکٹرک ورک شاپ کو دُنیا کی عظیم ترین الیکٹریکل اپلائنسز مینوفیکچررز میں بدل ڈالا جو آج دُنیا بھر میں دَو بڑے برینڈز ’نیشنل‘ اور ’پیناسونک‘ کے ناموں سے جانی پہچانی جاتی ہے۔
’ایک پُر عزم انسان زنگ آلود رینچ سے بھی وہ کام کر دکھاتا ہے، جو ایک کاہل شخص پوری مشین شاپ کے تمام تراوزاروں کے باوجود نہیں کر پائے گا۔‘
(رابرٹ ہیوز)
🌹 Sharing is Caring 🌹