غزل

بال جبریل

✍️ فطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ چالاک ✍️

( علامہ محمد اقبال )


فطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ چالاک
رکھتی ہے مگر طاقت پرواز مری خاک

وہ خاک کہ ہے جس کا جنوں صیقل ادراک
وہ خاک کہ جبریل کی ہے جس سے قبا چاک

وہ خاک کہ پروائے نشیمن نہیں رکھتی
چنتی نہیں پہنائے چمن سے خس و خاشاک

اس خاک کو اللہ نے بخشے ہیں وہ آنسو
کرتی ہے چمک جن کی ستاروں کو عرق ناک


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top