غزل
بانگ درا
✍️ کہوں کيا آرزوئے بے دلی مجھ کو کہاں تک ہے ✍️
( علامہ محمد اقبال )
کہوں کيا آرزوئے بے دلی مجھ کو کہاں تک ہے
مرے بازار کي رونق ہی سودائے زياں تک ہے
وہ مے کش ہوں فروغ مے سے خود گلزار بن جاوں
ہوائے گل فراق ساقی نامہرباں تک ہے
چمن افروز ہے صياد ميری خوشنوائی تک
رہی بجلی کي بے تابی ، سو ميرے آشياں تک ہے
وہ مشت خاک ہوں ، فيض پريشانی سے صحرا ہوں
نہ پوچھو ميری وسعت کی ، زميں سے آ سماں تک ہے
جرس ہوں ، نالہ خوابيدہ ہے ميرے ہر رگ و پے ميں
يہ خاموشی مري وقت رحيل کارواں تک ہے
سکون دل سے سامان کشود کار پيدا کر
کہ عقدہ خاطر گرداب کا آب رواں تک ہے
چمن زار محبت ميں خموشی موت ہے بلبل!
يہاں کی زندگی پابندی رسم فغاں تک ہے
جوانی ہے تو ذوق ديد بھي ، لطف تمنا بھی
ہمارے گھر کي آبادی قيام ميہماں تک ہے
زمانے بھر ميں رسوا ہوں مگر اے وائے نادانی!
سمجھتا ہوں کہ ميرا عشق ميرے رازداں تک ہے
🌹 Sharing is Caring 🌹