دیوان اقبال (علامہ اقبال کی اردو غزلیات) ضرب کلیم بال جبریل بانگ درا (بانگ درا) ⬇️ کيا کہوں اپنے چمن سے ميں جدا کيونکر ہوا 🖌️ زمانہ دیکھے گا جب مرے دل سے محشر اٹھے گا گفتگو کا 🖌️ زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدار یار ہوگا 🖌️ گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر 🖌️ انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں 🖌️ جنہیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں 🖌️ ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں 🖌️ سختیاں کرتا ہوں دل پر غیر سے غافل ہوں میں 🖌️ زندگی انساں کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں 🖌️ چمک تيری عياں بجلی ميں، آتش ميں، شرارے ميں 🖌️ مثال پرتو مئے، طوف جام کرتے ہيں 🖌️ کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں 🖌️ ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہ نو 🖌️ گرچہ تو زندانی اسباب ہے 🖌️ پھر باد بہار آئی، اقبال غزل خواں ہو 🖌️ نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی 🖌️ ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی 🖌️ يوں تو اے بزم جہاں! دلکش تھے ہنگامے ترے 🖌️ اے باد صبا! کملی والے سے جا کہيو پيغام مرا 🖌️ نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی 🖌️ تہ دام بھی غزل آشنا رہے طائران چمن تو کيا 🖌️ عجب واعظ کی ديں داری ہے يا رب 🖌️ لاوں وہ تنکے کہيں سے آشيانے کے ليے 🖌️ کہوں کيا آرزوئے بے دلی مجھ کو کہاں تک ہے 🖌️ کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے 🖌️ مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے 🖌️ الہی عقل خجستہ پے کو ذرا سی ديوانگی سکھا دے 🖌️ يہ سرود قمری و بلبل فريب گوش ہے 🖌️ (بال جبریل) ⬇️ اگر کج رَو ہیں انجم، آسماں تیرا ہے یا میرا 🖌️ کیا عشق ایک زندگئ مستعار کا 🖌️ سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا 🖌️ بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق و مغرب کے مے خانے 🖌️ غلامی کیا ہے ذوق حسن و زیبائی سے محرومی 🖌️ مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا 🖌️ مجھے آہ و فغان نیم شب کا پھر پیام آیا 🖌️ یہ حوریان فرنگی دل و نظر کا حجاب 🖌️ شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب 🖌️ اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد 🖌️ یا رب یہ جہان گزراں خوب ہے لیکن 🖌️ کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد 🖌️ گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر 🖌️ تو ابھی رہ گزر میں ہے قید مقام سے گزر 🖌️ افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر 🖌️ افطرت کو خرد کے روبرو کر 🖌️ ضمیر لالہ مۂ لعل سے ہوا لبریز 🖌️ یہ کون غزل خواں ہے پر سوز و نشاط انگیز 🖌️ کھو نہ جا اس سحر و شام میں اے صاحب ہوش 🖌️ ملے گا منزل مقصود کا اسی کو سراغ 🖌️ میر سپاہ نا سزا لشکریاں شکستہ صف 🖌️ کمال جوش جنوں ميں رہا ميں گرم طواف 🖌️ ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق 🖌️ یہ دیر کہن کیا ہے انبار خس و خاشاک 🖌️ ہوا نہ زور سے اس کے کوئی گریباں چاک 🖌️ فطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ چالاک 🖌️ ہے یاد مجھے نکتۂ سلمان خوش آہنگ 🖌️ خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل 🖌️ عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم 🖌️ تازہ پھر دانشِ حاضر نے کیا سِحرِ قدیم 🖌️ ڈھُونڈ رہا ہے فرنگ عیشِ جہاں کا دوام 🖌️ میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں 🖌️ اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں 🖌️ وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں 🖌️ عالم آب و خاک و باد سر عیاں ہے تو کہ میں 🖌️ پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن 🖌️ خودی کی شوخی و تندی میں کبر و ناز نہیں 🖌️ عقل گو آستاں سے دور نہیں 🖌️ خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں 🖌️ خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں 🖌️ تو اے اسیر مکاں لا مکاں سے دور نہیں 🖌️ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں 🖌️ مٹا دیا مرے ساقی نے عالم من و تو 🖌️ ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہ نو 🖌️ تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ 🖌️ تری نگاہ فرومایہ ہاتھ ہے کوتاہ 🖌️ خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ 🖌️ یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہر یک دانہ 🖌️ گرم فغاں ہے جرس اٹھ کہ گیا قافلہ 🖌️ فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و سپاہ 🖌️ دِگرگُوں ہے جہاں، تاروں کی گردش تیز ہے ساقی 🖌️ لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی 🖌️ متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی 🖌️ وہی میری کم نصیبی وہی تیری بے نیازی 🖌️ اک دانش نورانی اک دانش برہانی 🖌️ امین راز ہے مردان حر کی درویشی 🖌️ پوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہی 🖌️ دل بیدار فاروقی دل بیدار کراری 🖌️ زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی 🖌️ کمال ترک نہیں آب و گل سے مہجوری 🖌️ یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی 🖌️ ہر شے مسافر ہر چیز راہی 🖌️ ہر چیز ہے محو خودنمائی 🖌️ جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی 🖌️ نہ ہو طغیان مشتاقی تو میں رہتا نہیں باقی 🖌️ یہ پیران کلیسا و حرم اے وائے مجبوری 🖌️ رہا نہ حلقۂ صوفی میں سوز مشتاقی 🖌️ کی حق سے فرشتوں نے اقبالؔ کی غمازی 🖌️ نے مہرہ باقی نے مہرہ بازی 🖌️ مری نوا سے ہوئے زندہ عارف و عامی 🖌️ تھا جہاں مدرسۂ شیری و شاہنشاہی 🖌️ پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائے 🖌️ دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے 🖌️ نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے 🖌️ نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے 🖌️ خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے 🖌️ مکتبوں میں کہیں رعنائی افکار بھی ہے 🖌️ حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے 🖌️ نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے 🖌️ (ضرب کلیم) ⬇️ تیری متاعِ حیات، علم و ہُنر کا سُرور 🖌️ دريا ميں موتی ، اے موج بے باک 🖌️ دل مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ 🖌️ نہ میں اعجمی نہ ہندی، نہ عراقی و حجازی 🖌️ 🌹 Sharing is Caring 🌹 Go Back Poetry (Urdu) Home (Urdu-Nastaleeq) 📚 Read Motivational Blogs