✍️ عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا ✍️

میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں

( مرزا اسد اللہ غالب )


عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

تجھ سے قسمت میں مری صورت قفل ابجد
تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا

دل ہوا کشمکش چارۂ زحمت میں تمام
مٹ گیا گھسنے میں اس عقدے کا وا ہو جانا

اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہ
اس قدر دشمن ارباب وفا ہو جانا

ضعف سے گریہ مبدل بہ دم سرد ہوا
باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا

دل سے مٹنا تری انگشت حنائی کا خیال
ہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا

ہے مجھے ابر بہاری کا برس کر کھلنا
روتے روتے غم فرقت میں فنا ہو جانا

گر نہیں نکہت گل کو ترے کوچے کی ہوس
کیوں ہے گرد رہ جولان صبا ہو جانا

تا کہ تجھ پر کھلے اعجاز ہوائے صیقل
دیکھ برسات میں سبز آئنے کا ہو جانا

بخشے ہے جلوۂ گل ذوق تماشا غالبؔ
چشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جانا


عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

(درد کا حد سے گزرنا یعنی فنا کر دینا اور فنا ہونا عینِ مقصود ہے۔)


تجھ سے قسمت میں مری صورت قفل ابجد
تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا

(‘تجھ سے جدا ہو جانے’ سے متعلق ہے اور ‘قسمت میں’ متعلق ہے ‘تھا لکھا’ سے اور جدا ہو جانے سے قفل کا کھلنا مراد ہے کہ جب حروف مرتب ہو کر وہ کلمہ بنتا ہے جو واضع نے معین کر دیا ہو تو قفل ابجد کھل جاتا ہے اور بات کا بننا تدبیر کے بن پڑنے کو کہتے ہیں۔)


دل ہوا کشمکش چارۂ زحمت میں تمام
مٹ گیا گھسنے میں اس عقدے کا وا ہو جانا

(زحمتِ دل کے رفع کرنے کی تدبیروں سے وہ کشمکش ہوئی کہ دل ہی تمام ہو گیا، گویا ایک گرہ تھی گھس گئی۔)


اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہ
اس قدر دشمن ارباب وفا ہو جانا

(مطلب ظاہر ہے اور تعریض اس کی امکان سے باہر ہے، معشوق کی خفگی کی تصویر ہے اور خفگی بھی خاص طرح کی اور یہ مضمون بھی خاص مصنف ہی کا ہے۔)


ضعف سے گریہ مبدل بہ دم سرد ہوا
باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا

(یعنی مسئلہ استحالہ عناصر پہلے ہماری سمجھ میں نہ آیا تھا، اب امتحان ہو گیا تو باور ہو گیا۔)

دل سے مٹنا تری انگشت حنائی کا خیال
ہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا

(کہتے ہیں کہ گوشت سے بھی کہیں ناخن جدا ہوا ہے، یعنی ان دونوں میں مفارقت نہیں ہو سکتی، دل سے خیالِ دستِ حنائی نہیں نکل سکتا۔)

ہے مجھے ابر بہاری کا برس کر کھلنا
روتے روتے غم فرقت میں فنا ہو جانا

(یعنی روتے روتے مر جانا میرے لئے باعثِ مسرت ہے، میں اسے یہ جانتا ہوں کہ جیسے ابر برس کر کھل گیا اور باعثِ نشاط ہوا، خوبی اس میں تازگیِ تشبیہ کی ہے۔)

گر نہیں نکہت گل کو ترے کوچے کی ہوس
کیوں ہے گرد رہ جولان صبا ہو جانا

(یعنی پھر فعل اُس کا کیوں ہے کہ صبا گردِ راہ بن جاتی ہے، یعنی صبا کے ساتھ تیرے کوچے میں آنے کی ہوس رکھتی ہے، ردیف محاورہ سے گری ہوئی ہے۔)

تا کہ تجھ پر کھلے اعجاز ہوائے صیقل
دیکھ برسات میں سبز آئنے کا ہو جانا

​(برسات میں آئینۂ فولاد پر زنگ پڑ جاتا ہے، وہ گویا سبزہ ہے جسے ہوائے صیقل نے پیدا کیا ہے، ہوا بمعنی خواہش و شوق ہے، حاصل یہ ہے کہ شوق وہ چیز ہے کہ فولاد پر بھی اثر کرتا ہے۔)

بخشے ہے جلوۂ گل ذوق تماشا غالبؔ
چشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جانا

(یعنی باغ میں رنگ رنگ کے پھول کھلے ہوئے دیکھ کر یہ ذوق پیدا ہوتا ہے کہ اسی طرح ہر رنگ میں آنکھ کو وا کرنا چاہئے اور ہر طرح کی سیر کرنا چاہئے۔ ‘بخشے’ کا فاعل ‘جلوۂ گل’ ہے اور مفعول ‘ذوقِ تماشا’ ہے، اور دوسرا مصرع ذوقِ تماشا کی تفسیر ہے۔)



🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top