✍️ جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا ✍️

میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں

( مرزا اسد اللہ غالب )


جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا
کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاو
جب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا

ہو لیے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھ
یا رب اپنے خط کو ہم پہنچایں کیا

موج خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
آستان یار سے اٹھ جائیں کیا

عمر بھر دیکھا کیا مرنے کی راہ
مر گئے پر دیکھیے دکھلائیں کیا

پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا


جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا
کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا

(یعنی اب شرمندگی سے منہ نہیں دکھاتے یہ بھی میرے لئے ستم ہے۔)


لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاو
جب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا

(یعنی وہ عداوت بھی کرتا تو ہم لگاوٹ سمجھتے۔)


ہو لیے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھ
یا رب اپنے خط کو ہم پہنچایں کیا

(یارب اس شعر میں ندا کے لئے نہیں ہے بلکہ اظہارِ استعجاب کے لئے ہے۔)


موج خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
آستان یار سے اٹھ جائیں کیا

(‘کیا’ دوسرے مصرعہ میں تحقیر کے لئے ہے۔)


عمر بھر دیکھا کیا مرنے کی راہ
مر گئے پر دیکھیے دکھلائیں کیا

​(یعنی زندگی بھر تو اُنھوں نے مرنے کی راہ دکھلائی مر گئے پر جانے کیا دکھلائیں۔)

پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

(ہم بتلائیں کیا ایسے مقام پر محاورہ میں ہے، جہاں پوچھنے والا جان بوجھ کر جاہل بنتا ہے یعنی تعجب ہے کہ وہ غالب کو ایسا بھول گئے جیسے کبھی کی شناسائی نہ تھی۔)


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top