✍️ غافل بہ وہم ناز خود آرا ہے ورنہ یاں ✍️
( مرزا اسد اللہ غالب )
غافل بہ وہم ناز خود آرا ہے ورنہ یاں
بے شانۂ صبا نہیں طرہ گیاہ کا
بزم قدح سے عیش تمنا نہ رکھ کہ رنگ
صید ز دام جستہ ہے اس دام گاہ کا
رحمت اگر قبول کرے کیا بعید ہے
شرمندگی سے عذر نہ کرنا گناہ کا
مقتل کو کس نشاط سے جاتا ہوں میں کہ ہے
پر گل خیال زخم سے دامن نگاہ کا
جاں در ہواۓ یک نگۂ گرم ہے اسدؔ
پروانہ ہے وکیل ترے داد خواہ کا
غافل بہ وہم ناز خود آرا ہے ورنہ یاں
بے شانۂ صبا نہیں طرہ گیاہ کا
(یعنی لوگ سرِ حقیقت سے غافل ہیں، ان کی طبیعت میں جو ایک مادۂ فخر و ناز ہے اُس نے یہ وہم پیدا کر دیا ہے کہ ہم نے یہ کیا اور ہماری تدبیر سے یہ بن پڑا، حالانکہ جو کچھ ہے سب اُسی طرف سے ہے، اس شعر میں لطفِ الہی کو بادِ صبا سے تشبیہ دی ہے۔)
بزم قدح سے عیش تمنا نہ رکھ کہ رنگ
صید ز دام جستہ ہے اس دام گاہ کا
(بزمِ قدح یعنی بزمِ شراب۔ رنگ یعنی عیش۔ دام گاہ دُنیا سے استعارہ ہے۔ عیش تمنا نہ رکھ ترجمۂ فارسی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عیش کی تمنا نہ رکھ۔)
رحمت اگر قبول کرے کیا بعید ہے
شرمندگی سے عذر نہ کرنا گناہ کا
(‘شرمندگی’ سے مفعول لہ ہے عذر نہ کرنے کا اور عذر نہ کرنا مفعول ہے یہ قبول کرنے کا کیا بعید ہے جوابِ شرط۔)
مقتل کو کس نشاط سے جاتا ہوں میں کہ ہے
پر گل خیال زخم سے دامن نگاہ کا
(یعنی ظاہر میں گل سے زخم کو تشبیہ دی ہے۔)
جاں در ہواۓ یک نگۂ گرم ہے اسدؔ
پروانہ ہے وکیل ترے داد خواہ کا
(معشوق سے خطاب ہے کہ تیرا دادخواہ یعنی اسد جاں در ہوائے نگہِ گرم ہے اور اسد جان در ہوا ہے، یہ ویسی ہی ترکیب ہے جیسے کہیں فلاں سر بکف ہے یا پادر رکاب ہے، پھر جان کو در ہوائے نگہِ گرم میں ہونے کی وجہ سے پروانہ سے تشبیہ دی ہے۔ حاصل یہ کہ اسد کی جان ایک نگاہِ گرم کی آرزو میں ہے گویا تیرے دادخواہ کا وکیل پروانہ کا سا حوصلہ رکھتا ہے کہ جل جانے کی خواہش کرتا ہے۔)
طاؤس در رکاب ہے ہر ذرہ آہ کا
یارب نفس غبار ہے کس جلوہ گاہ کا
عزلت گزین بزم ہیں واماندگان دید
مینائے مے ہے آبلہ پائے نگاہ کا
ہر گام آبلے سے ہے دل در تہ قدم
کیا بیم اہل درد کو سختیٔ راہ کا
جیب نیاز عشق نشاں دار ناز ہے
آئینہ ہوں شکستن طرف کلاہ کا
🌹 Sharing is Caring 🌹