✍️ سرمۂ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


سرمۂ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
کہ رہے چشم خریدار پہ احساں میرا

رخصت نالہ مجھے دے کہ مبادا ظالم
تیرے چہرے سے ہو ظاہر غم پنہاں میرا


سرمۂ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
کہ رہے چشم خریدار پہ احساں میرا

(یعنی میرے کلام کا فیض عام ہے اور اس سے انتفاع مفت ہے۔ جیسے آنکھیں سینک لینا مفت میں ہر شخص کو حاصل ہے، لذتِ نظر کو سرمۂ مفت سے تشبیہ دی ہے اور سرمۂ صفت کی اضافت نظر کی طرف تشبیہی ہے۔)


رخصت نالہ مجھے دے کہ مبادا ظالم
تیرے چہرے سے ہو ظاہر غم پنہاں میرا

(یعنی نالہ نہ کرنے سے دل ہی پر غم نہانی کا اثر پڑے گا اور میرے دل سے تیرے دل کو بھی راہ ہے)



خلوت آبلۂ پا میں ہے جولاں میرا
خوں ہے دل تنگی وحشت سے بیاباں میرا

ذوق سرشار سے بے پردہ ہے طوفاں میرا
موج خمیازہ ہے ہر زخم نمایاں میرا

عیش بازی کدۂ حسرت جاوید رسا
خون آدینہ سے رنگیں ہے دبستاں میرا

حسرت نشۂ وحشت نہ بہ سعیٔ دل ہے
عرض خمیازۂ مجنوں ہے گریباں میرا

عالم بے سر و سامانیٔ فرصت مت پوچھ
لنگر وحشت مجنوں ہے بیاباں میرا

بے دماغ تپش رشک ہوں اے جلوۂ حسن
تشنۂ خون دل و دیدہ ہے پیماں میرا

فہم زنجیریٔ بے ربطیٔ دل ہے یارب
کس زباں میں ہے لقب خواب پریشاں میرا

بہ ہوس درد سر اہل سلامت تا چند
مشکل عشق ہوں مطلب نہیں آساں میرا

بوئے یوسف مجھے گلزار سے آتی تھی اسدؔ
دے نے برباد کیا پیرہنستاں میرا


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top