✍️ رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف ✍️
( مرزا اسد اللہ غالب )
رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف
عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا
ذرہ ذرہ ساغر مے خانۂ نیرنگ ہے
گردش مجنوں بہ چشمک ہائے لیلیٰ آشنا
شوق ہے ساماں طراز نازش ارباب عجز
ذرہ صحرا دست گاہ و قطرہ دریا آشنا
میں اور ایک آفت کا ٹکڑا وہ دل وحشی کہ ہے
عافیت کا دشمن اور آوارگی کا آشنا
شکوہ سنج رشک ہم دیگر نہ رہنا چاہیے
میرا زانو مونس اور آئینہ تیرا آشنا
کوہ کن نقاش یک تمثال شیریں تھا اسدؔ
سنگ سے سر مار کر ہووے نہ پیدا آشنا
رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف
عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا
(یعنی عقل معشوق کی برائی مجھے سمجھاتی ہے تاکہ رشک کا قلق کم ہو جائے یہ سمجھ کر کہ جس طرح اُس نے ہمارے ساتھ بے وفائی کی غیر سے بھی یوں نہیں پیش آئے گا۔)
ذرہ ذرہ ساغر مے خانۂ نیرنگ ہے
گردش مجنوں بہ چشمک ہائے لیلیٰ آشنا
(یعنی عالم کا ہر ذرہ جو گردش و انقلاب میں مبتلا ہے، یہ نیرنگِ فلک کے اشارہ سے ہے، یہاں لفظ ساغر سے معنی گردش نے تراوش کی اور اسی رعایت سے نیرنگ کو میخانہ سے تعبیر کیا ہے، اس کے بعد برسبیلِ تمثیل کہتے ہیں کہ مجنوں کی گردش لیلیٰ ہی کے اشارہ سے ہے۔)
شوق ہے ساماں طراز نازش ارباب عجز
ذرہ صحرا دست گاہ و قطرہ دریا آشنا
(عاجزوں کا سرمایہ ناز شوق ہے، جس کے سبب سے ذرہ انا البحر اور قطرہ انا البحر کہنے لگتا ہے۔)
میں اور ایک آفت کا ٹکڑا وہ دل وحشی کہ ہے
عافیت کا دشمن اور آوارگی کا آشنا
(‘ہوں’ محذوف ہے یعنی میں ہوں اور وہ دل جو دشمنِ عافیت ہے، ظاہر ہے کہ آفت کوئی ایسی شے نہیں ہے جس کا ٹکڑا بھی ہو، مگر محاورہ میں قیاس کو دخل ہی نہیں، اسی طرح پری کا ٹکڑا، حور کا ٹکڑا بھی محاورہ ہے، چاند کا ٹکڑا البتہ معنی رکھتا ہے اور پہلے بھی محاورہ تھا، اُس کے بعد پری کا ٹکڑا اور حور کا ٹکڑا اور آفت کا ٹکڑا اسی قیاس پر کہنے لگے اور اب سب صحیح ہیں۔)
شکوہ سنج رشک ہم دیگر نہ رہنا چاہیے
میرا زانو مونس اور آئینہ تیرا آشنا
(یعنی تم آئینہ میں ہر وقت مشغول رہو تو میں شکایت نہیں کرتا اور میں ہمیشہ سربزانو رہتا ہوں تو تم برا نہ مانو، شعرا زانو کو آئینہ سے تشبیہ دیا کرتے ہیں۔)
کوہ کن نقاش یک تمثال شیریں تھا اسدؔ
سنگ سے سر مار کر ہووے نہ پیدا آشنا
(یعنی فقط نقاش تھا عاشقِ صادق نہ تھا نہیں تو تعجب ہے کہ سنگ سے سر مارے اور اُس میں سے معشوق نکل نہ آئے۔)
خود پرستی سے رہے باہم دگر نا آشنا
بیکسی میری شریک آئینہ تیرا آشنا
آتش موئے دماغ شوق ہے تیرا تپاک
ورنہ ہم کس کے ہیں اے داغ تمنا آشنا
بے دماغی شکوہ سنج رشک ہم دیگر نہیں
یار تیرا جام مے خمیازہ میرا آشنا
جوہر آئینہ جز رمز سر مژگاں نہیں
آشنا کی ہم دگر سمجھے ہے ایما آشنا
ربط یک شیرازۂ وحشت ہیں اجزائے بہار
سبزہ بیگانہ صبا آوارہ گل نا آشنا
🌹 Sharing is Caring 🌹