✍️ عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا ✍️
( مرزا اسد اللہ غالب )
عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
جاتا ہوں داغ حسرت ہستی لیے ہوئے
ہوں شمع کشتہ در خور محفل نہیں رہا
مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میں
شایان دست و بازوئے قاتل نہیں رہا
برروئے شش جہت در آئینہ باز ہے
یاں امتیاز ناقص و کامل نہیں رہا
وا کر دیے ہیں شوق نے بند نقاب حسن
غیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا
گو میں رہا رہین ستم ہائے روزگار
لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
دل سے ہوائے کشت وفا مٹ گئی کہ واں
حاصل سوائے حسرت حاصل نہیں رہا
بیداد عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسدؔ
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
(یعنی بے وفائی و بے اعتنائی کے صدمے اٹھاتے اٹھاتے اب وہ دل ہی نہیں رہا کہ عشق سے نیاز مندی کا دعویٰ کریں۔)
جاتا ہوں داغ حسرت ہستی لیے ہوئے
ہوں شمع کشتہ در خور محفل نہیں رہا
(محفل استعارہ ہے ہستی سے۔)
مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میں
شایان دست و بازوئے قاتل نہیں رہا
یعنی میرا حال ایسا غیر ہوا ہے کہ وہ مجھے صید زبوں سمجھتا ہے-
برروئے شش جہت در آئینہ باز ہے
یاں امتیاز ناقص و کامل نہیں رہا
ناقص و کامل دونوں کے سامنے شش جہت موجو ہےاور دونون سر خلقت کے سمجھنے میں حیران ہیں اور آئینے میں دونوں دیکھ رہے ہیں کہ دونوں کی ایک ہی صورت ہے۔ ناقص و کامل میں یہاں کچھ فرق نہیں۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ برروئے شش جہت کہا ہو مصنف نے۔ اور معنی یہ ہیں کہ جس طرح آئینہ قبول عکس میں کوئی امتیاز نہیں کرتا۔ یہی حال ہے بہ تمثیل عارف کے دل کا۔
وا کر دیے ہیں شوق نے بند نقاب حسن
غیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا
،یعنی ناظر اور مرئی کا امتیاز جو باقی ہے یہی بس حائل ہے۔اس سبب سے کہ آنکھ اس کو نہیں دیکھ سکتی اور اس کے علاوہ جو حجاب تھے، وہ کثرت اشتیاق نے اٹھا دیئے۔
گو میں رہا رہین ستم ہائے روزگار
لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
یعنی کسی حال میں تجھے میں نہیں بھولا۔
دل سے ہوائے کشت وفا مٹ گئی کہ واں
حاصل سوائے حسرت حاصل نہیں رہا
یعنی وفا کا حوصلہ اب نہیں رہا کہ وفا کر کے حسرت کے سوا کچھ نہیں پایا۔
بیداد عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسدؔ
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
(یعنی جب دل نہیں رہا تو بیداد کون اٹھائے گا۔)
ہر چند میں ہوں طوطی شیریں سخن ولے
آئینہ آہ میرے مقابل نہیں رہا
جاں داد گاں کا حوصلہ فرصت گداز ہے
یاں عرصۂ طپیدن بسمل نہیں رہا
ہوں قطرہ زن بہ وادیٔ حسرت شبانہ روز
جز تار اشک جادۂ منزل نہیں رہا
اے آہ میری خاطر وابستہ کے سوا
دنیا میں کوئی عقدۂ مشکل نہیں رہا
انداز نالہ یاد ہیں سب مجھ کو پر اسدؔ
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
🌹 Sharing is Caring 🌹