✍️ آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا

قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریے
اس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا


آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا

(یعنی کچھ غرور نہ چلا اپنے اوپر فریفتہ ہو گئے۔)


قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریے
اس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا

(یعنی انتہائے رشک یہ ہے کہ وہ کسی کو قتل بھی کرے تو نہیں دیکھا جاتا اور یہ آرزو ہوتی ہے کہ ہمیں قتل کرے ‘اپنے ہاتھ’ کی لفظ سے مصنف نے رشک کی طرف اشارہ کیا ہے۔)


ضعف جنوں کو وقت تپش در بھی دور تھا
اک گھر میں مختصر سا بیاباں ضرور تھا

اے وائے غفلت نگۂ شوق ورنہ یاں
ہر پارہ سنگ لخت دل کوہ طور تھا

درس تپش ہے برق کو اب جس کے نام سے
وہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا

ہر رنگ میں جلا اسدؔ فتنہ انتظار
پروانۂ تجلی شمع ظہور تھا

شاید کہ مر گیا ترے رخسار دیکھ کر
پیمانہ رات ماہ کا لبریز نور تھا

جنت ہے تیری تیغ کے کشتوں کی منتظر
جوہر سواد جلوۂ مژگان حور تھا


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top