✍️ وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا ✍️
( مرزا اسد اللہ غالب )
وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا
راز مکتوب بہ بے ربطی عنواں سمجھا
یک الف بیش نہیں صیقل آئینہ ہنوز
چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا
شرح اسباب گرفتاری خاطر مت پوچھ
اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا
بد گمانی نے نہ چاہا اسے سرگرم خرام
رخ پہ ہر قطرہ عرق دیدۂ حیراں سمجھا
عجز سے اپنے یہ جانا کہ وہ بد خو ہوگا
نبض خس سے تپش شعلۂ سوزاں سمجھا
سفر عشق میں کی ضعف نے راحت طلبی
ہر قدم سائے کو میں اپنے شبستاں سمجھا
تھا گریزاں مژۂ یار سے دل تا دم مرگ
دفع پیکان قضا اس قدر آساں سمجھا
دل دیا جان کے کیوں اس کو وفادار اسدؔ
غلطی کی کہ جو کافر کو مسلماں سمجھا
وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا
راز مکتوب بہ بے ربطی عنواں سمجھا
‘یہ بیان سب کے لئے اور عنوانِ مکتوب سے پیشانی اور رازِ مکتوب نے غمِ نہانی کو تشبیہ دی ہے۔’
یک الف بیش نہیں صیقل آئینہ ہنوز
چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا
یعنی جب سے میں گریباں کو گریباں سمجھا، جب سے اُسے چاک کیا کرتا ہوں، حاصل یہ ہے کہ جب سے مجھے اتنا شعور ہوا کہ تعلقاتِ دنیا مانعِ صفائے نفس ہیں جب ہی سے میں نے ترکِ دنیا کیا، لیکن اس پر بھی آئینہ دل صاف نہیں ہوا، بس ظاہر میں جو آزادوں کی سینہ پر ایک الف کھینچا ہوا ہوتا ہے وہ تو ہے صفائے باطن کچھ نہیں حاصل ہوئی اور گریباں تعلقاتِ دنیا سے استعارہ ہے، اس وجہ سے کہ یہ دونوں انسان کے گلوگیر ہیں۔ سینہ پر الف کھینچنا آزادوں کا طریقہ ہے اور یہ مضمون فارسی والے کہا کرتے ہیں اور پیشِ نہیں بیانِ حصر کے لئے ہے، مگر اُردو کی غواص کی نتحمل نہیں، یہ فارسی کا ترجمہ ہے۔
شرح اسباب گرفتاری خاطر مت پوچھ
اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا
شرح کے لغوی معنی کھولنے کے ہیں، لفظ تنگ کی مناسبت سے مصنف نے یہ لفظ باندھا ہے اور تنگیِ خاطر و انشراحِ خاطر میں بھی تقابل ہے اور گرفتگیِ خاطر کے مقام پر گرفتاریِ خاطر لفظ زنداں کی رعایت سے اختیار کی ہے۔
بد گمانی نے نہ چاہا اسے سرگرم خرام
رخ پہ ہر قطرہ عرق دیدۂ حیراں سمجھا
یعنی میری بدگمانی نے اس کا سرگرمِ خرام ہونا نہ گوارا کیا، اس لئے کہ خرام میں جو پسینہ اسے آیا تو میں ہر قطرہ کو یہ سمجھا کہ رقیب کی چشمِ حیراں اس کے رُخ پر پڑی ہے، یہاں قطرہِ عرق میں مصنف نے فک اضافہ کیا ہے۔
عجز سے اپنے یہ جانا کہ وہ بد خو ہوگا
نبض خس سے تپش شعلۂ سوزاں سمجھا
عجز کو خس اور تندخوئی کو شعلہ سے تعبیر کیا ہے اور خس کو رگِ نبض سے تشبیہ دی اور تپش سے تپ مقصود ہے، اس شعر کو طعن و تشنیع کے لہجہ میں پڑھنا چاہئے، شاعر اپنے اوپر آپ ملامت کرتا ہے کہ میں نے اپنی عجز و نا قابلیت سے یہ سمجھ لیا کہ وہ بد مزاج و تندخو ہوگا، اُس سے احتراز کرنا چاہئے، گویا نبضِ خس سے تپِ شعلہ کا حال معلوم کر لیا، یہ بھی محال ہے اور وہ بھی غلط خیال۔
سفر عشق میں کی ضعف نے راحت طلبی
ہر قدم سائے کو میں اپنے شبستاں سمجھا
جہاں رات گذرے وہ شبستاں ہے یعنی ہر قدم پر اپنے سایہ کو دیکھ کر میں یہی سمجھا کہ رات ہو گئی اور مقام آ گیا۔
تھا گریزاں مژۂ یار سے دل تا دم مرگ
دفع پیکان قضا اس قدر آساں سمجھا
تا دمِ مرگ کی لفظ سے یہ ظاہر کرنا منظور ہے کہ آخر نہ بچ سکا اور پیکانِ قضا سے مژہ کا استعارہ کیا ہے۔
دل دیا جان کے کیوں اس کو وفادار اسدؔ
غلطی کی کہ جو کافر کو مسلماں سمجھا
بے وفا کو وفادار جان کر دل دیا یعنی غلطی سے کافر کو مسلمان سمجھا، دل و جان کا ضلع بھی اس میں بول گئے ہیں۔
ہم نے وحشت کدۂ بزم جہاں میں جوں شمع
شعلۂ عشق کو اپنا سر و ساماں سمجھا
🌹 Sharing is Caring 🌹