✍️ نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا
ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
فلسفہ میں اصولِ مسلمہ سے یہ ہے لاشئے سے شئے نہیں بن سکتی اور عالمِ شئے موجود ہے تو ضرور ہے کہ کسی شئے سے یہ شئے حاصل ہوئی ہو اور جس شئے سے یہ حاصل ہوئی اُسے طبیعیین یعنی قائلینِ نیچر ہیولیٰ وصورت کہتے ہیں اور صوفیہ عینِ ذات سمجھتے ہیں اور متکلمین کا مذاق کہتا ہے یہ اصل لا شئے سے شئے نہیں ہوسکتی، اس قدر ظاہر نہیں ہے جس قدر تصرف وتدبیر وحکمت کے آثار ظاہر و محسوس و آشکار ہیں اور اسی وجہ سے فاعل ومنفعل و موثر ومتاثر میں ہم فرق کرتے ہیں۔ مصنف نے یہ شعر صوفیہ کے مذاق میں کہا ہے، یعنی میں جب کچھ نہ تھا تو خدا تھا اور کچھ ہو کر اپنی مبدا سے مغائر ہو گیا اور اُس مبداِ فیض سے علیحدہ ہو جانا میرے حق میں برا ہوا۔
ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا
غم میں سر کا زانو پر دھرنا امرِ مشہور ہے اور معنی ظاہر ہیں کہ سر کٹنے کے بعد کا یہ کلام ہے۔
ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
‘کیا’ تحقیر کے لئے ہے، یعنی ہر امر کی خواہ وہ باعثِ عیش و راحت ہو یا سببِ رنج و آفت ہو، وہ تحقیر کیا کرتا تھا اور ہیچ سمجھتا تھا۔
🌹 Sharing is Caring 🌹