✍️ گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا
گہر میں محو ہوا اضطراب دریا کا

یہ جانتا ہوں کہ تو اور پاسخ مکتوب
مگر ستم زدہ ہوں ذوق خامہ فرسا کا

حنائے پائے خزاں ہے بہار اگر ہے یہی
دوام کلفت خاطر ہے عیش دنیا کا

غم فراق میں تکلیف سیر باغ نہ دو
مجھے دماغ نہیں خندہ ہائے بے جا کا

ہنوز محرمی حسن کو ترستا ہوں
کرے ہے ہر بن مو کام چشم بینا کا

دل اس کو پہلے ہی ناز و ادا سے دے بیٹھے
ہمیں دماغ کہاں حسن کے تقاضا کا

نہ کہہ کہ گریہ بہ مقدار حسرت دل ہے
مری نگاہ میں ہے جمع و خرچ دریا کا

فلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اس کو یاد اسدؔ
جفا میں اس کی ہے انداز کار فرما کا


گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا
گہر میں محو ہوا اضطراب دریا کا

​یعنی: شوق دل میں سما کر تنگیِ جا کے سبب سے جوش و خروش نہیں دکھا سکتا، گویا دریا گہر میں سما گیا، کہ اب تلاطم نہیں باقی رہا۔


یہ جانتا ہوں کہ تو اور پاسخ مکتوب
مگر ستم زدہ ہوں ذوق خامہ فرسا کا

​یعنی: ’تو اور پاسخِ مکتوب‘ یعنی تو اور جواب لکھنا ممکن نہیں تقدیر اس کی یہ ہے کہاں تو اور کہاں پاسخِ مکتوب ’کہاں‘ کی لفظ محذوف ہے اور لفظ پاسخ سے نوشتہ پاسخ یا فرستادن و دادن پاسخ مراد ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ کبھی فعل اور فاعل میں اظہارِ استبعاد کے لئے حرفِ عطف کو فاصل کیا کرتے ہیں، مثلاً آگ اور نہ جلائے یعنی یہ بات مستبعد ہے اور کبھی مبالغہ کے لئے عطف کرتے ہیں، جیسے آگ اور دہکتی ہوئی، اسی طرح اور متعلقاتِ فعل میں بھی فصل کر دیتے ہیں۔


حنائے پائے خزاں ہے بہار اگر ہے یہی
دوام کلفت خاطر ہے عیش دنیا کا

​یعنی: بہار ہے بھی تو کیا ہے مہندی کی لالی ہے، چار دن میں جاتی رہے گی پھر خزاں ہی خزاں کا قدم درمیان میں ہے۔


غم فراق میں تکلیف سیر باغ نہ دو
مجھے دماغ نہیں خندہ ہائے بے جا کا

​یعنی: خندہ گل، مجھ سے نہ دیکھا جائے گا۔


ہنوز محرمی حسن کو ترستا ہوں
کرے ہے ہر بن مو کام چشم بینا کا

​یعنی: باوجود یہ کہ اپنے ہر بنِ مو سے دیکھ رہا ہوں، اس پر بھی محرمیِ حسن نہیں حاصل ہے یعنی کنہہ ذات تک رسائی نہیں اور ہر بنِ مو کو چشمِ بینا کہنے کی وجہ یہ ہے جب کہ ہر شے آئینہ ظہورِ صنعتِ قدرت ہے، تو اس میں بنِ مو بھی داخل ہے یعنی ہر بنِ اس طرح حکمت و صنعت کو دکھا رہی ہے جس طرح کوئی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے۔


دل اس کو پہلے ہی ناز و ادا سے دے بیٹھے
ہمیں دماغ کہاں حسن کے تقاضا کا

​یعنی: ناز و ادا کے سامنے کا تقاضا ہے، ہم نے تقاضے کی نوبت ہی نہ آنے دی۔


نہ کہہ کہ گریہ بہ مقدار حسرت دل ہے
مری نگاہ میں ہے جمع و خرچ دریا کا

​یعنی: اس بات کو میں ہی خوب جانتا ہوں کہ اس دریا کا تابع و مجمع یعنی حسرتِ دل کس قدر ہے اور اس کا خرچ یعنی آنسو کس قدر ہیں غرض یہ کہ حسرت بڑھی ہوئی ہے گریہ سے، اس کا انداز نہیں ہو سکتا۔


فلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اس کو یاد اسدؔ
جفا میں اس کی ہے انداز کار فرما کا

​یعنی: چرخ کو کب یہ سلیقہ ہے ستم گاری میں، کوئی معشوق ہے اس پردہ زنگاری میں۔



مرا شمول ہر اک دل کے پیچ و تاب میں ہے
میں مدعا ہوں تپش نامۂ تمنا کا

ملی نہ وسعت جولان یک جنوں ہم کو
عدم کو لے گئے دل میں غبار صحرا کا


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top