✍️ گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا
بے تکلف داغ مہ مہر دہاں ہو جائے گا

زہرہ گر ایسا ہی شام ہجر میں ہوتا ہے آب
پرتو مہتاب سیل خانماں ہو جائے گا

لے تو لوں سوتے میں اس کے پاؤں کا بوسہ مگر
ایسی باتوں سے وہ کافر بد گماں ہو جائے گا

دل کو ہم صرف وفا سمجھے تھے کیا معلوم تھا
یعنی یہ پہلے ہی نذر امتحاں ہو جائے گا

سب کے دل میں ہے جگہ تیری جو تو راضی ہوا
مجھ پہ گویا اک زمانہ مہرباں ہو جائے گا

گر نگاہ گرم فرماتی رہی تعلیم ضبط
شعلہ خس میں جیسے خوں رگ میں نہاں ہو جائے گا

باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر
ہر گل تر ایک چشم خوں فشاں ہو جائے گا

واے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہو
اب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے گا

فائدہ کیا سوچ آخر تو بھی دانا ہے اسدؔ
دوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہو جائے گا


گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا
بے تکلف داغ مہ مہر دہاں ہو جائے گا

یعنی: شبِ فراق کا اندوہ اگر میں بیان نہ کر سکوں تو یہ سمجھنا چاہیے کہ چاند کا داغ داغ نہ تھا، بلکہ میرے ہونٹوں پر مہر تھی۔


زہرہ گر ایسا ہی شام ہجر میں ہوتا ہے آب
پرتو مہتاب سیل خانماں ہو جائے گا

یعنی: شامِ ہجر کی ہیبت کا یہ اثر ہوتا ہے کہ تو کیا عجب ہے کہ چاندنی کا زہرہ بھی پانی ہو جائے اور وہ میرے گھر کے لئے سیلاب ہو جائے۔


لے تو لوں سوتے میں اس کے پاؤں کا بوسہ مگر
ایسی باتوں سے وہ کافر بد گماں ہو جائے گا

یعنی: میری محبت کو پاک محبت پھر نہ سمجھے گا۔


دل کو ہم صرف وفا سمجھے تھے کیا معلوم تھا
یعنی یہ پہلے ہی نذر امتحاں ہو جائے گا

نذرِ امتحاں یعنی اُس کے امتحان لینے ہی میں اُس کا کام تمام ہو جائے گا، یہ خبر نہ تھی۔


سب کے دل میں ہے جگہ تیری جو تو راضی ہوا
مجھ پہ گویا اک زمانہ مہرباں ہو جائے گا

تو سب کے دل میں ہے تو مجھ سے راضی ہوگا تو سب کے دل مجھ سے راضی ہو جائیں گے۔ ‘ہوا’ ماضی کا صیغہ ہے، حرفِ شرط کے تحت اس کے معنی مستقبل کے ہو جاتے ہیں۔


گر نگاہ گرم فرماتی رہی تعلیم ضبط
شعلہ خس میں جیسے خوں رگ میں نہاں ہو جائے گا

​یعنی: نظرِ عتاب جو ضبطِ نالہ و آہ کا اشارہ کرتی ہے اُس کے ڈر سے عجب نہیں کہ شعلہ خس میں اس طرح چھپ رہے جیسے رگ میں خون۔


باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر
ہر گل تر ایک چشم خوں فشاں ہو جائے گا

یعنی: میرا حال ایسا ہے کہ جو دیکھتا ہے، اسے رونا آتا ہے۔


واے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہو
اب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے گا

صاف شعر ہے۔


فائدہ کیا سوچ آخر تو بھی دانا ہے اسدؔ
دوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہو جائے گا

نادان کی دوستی جی کا زیاں شکل ہے۔



گر وہ مست ناز دیوے گا صلائے عرض حال
خار گل بہر دہان گل زباں ہو جائے گا

گر شہادت آرزو ہے نشے میں گستاخ ہو
بال شیشے کا رگ سنگ فساں ہو جائے گا


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top