✍️ پئے نذر کرم تحفہ ہے شرم نا رسائی کا ✍️
( مرزا اسد اللہ غالب )
پئے نذر کرم تحفہ ہے شرم نا رسائی کا
بہ خوں غلتیدۂ صد رنگ دعویٰ پارسائی کا
نہ ہو حسن تماشا دوست رسوا بے وفائی کا
بہ مہر صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
زکات حسن دے اے جلوۂ بینش کہ مہر آسا
چراغ خانۂ درویش ہو کاسہ گدائی کا
نہ مارا جان کر بے جرم غافل تیری گردن پر
رہا مانند خون بے گنہ حق آشنائی کا
تمناۓ زباں محو سپاس بے زبانی ہے
مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا
وہی اک بات ہے جو یاں نفس واں نکہت گل ہے
چمن کا جلوہ باعث ہے مری رنگیں نوائی کا
دہان ہر بت پیغارہ جو زنجیر رسوائی
عدم تک بے وفا چرچا ہے تیری بے وفائی کا
نہ دے نامے کو اتنا طول غالبؔ مختصر لکھ دے
کہ حسرت سنج ہوں عرض ستم ہائے جدائی کا
پئے نذر کرم تحفہ ہے شرم نا رسائی کا
بہ خوں غلتیدۂ صد رنگ دعویٰ پارسائی کا
یعنی کریم کو نذر دینے کے لئے میری شرم و ندامت اس دعویٰ پرہیزگاری کا تحفہ لے کے چلی ہے جس کا سو گنا ہوں کے ہاتھ سے خون ہو چکا ہے۔ ‘شرمِ نارسائی’ کا تحفہ اسمِ بے مسمیٰ ہے اور دوسرا مصرع سارا خبر ہے ‘پئے نذرِ کرم’ تحفہ دینے کا سبب وغایت ہے، درگاہِ کریم سے تقرب نہ ہونا اور دور رہنا نارسائی کے معنی ہیں۔
نہ ہو حسن تماشا دوست رسوا بے وفائی کا
بہ مہر صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
شاعر معشوقِ آوارہ مزاج پر طعن کرتا ہے کہ بھلا تمہیں کون بے وفا کہہ سکتا ہے؟ اگر سو آدمیوں کی آنکھ تم پر پڑی تو گویا سو مہریں ہو گئیں کہ تم پارسا ہو اور اس طعن کا مفہوم مخالف ہے کہ تماشا دوست ہو کر اور اغیار سے جھانک تاک کر کے پارسائی کا کیا اور خیانت و بے وفائی کی رسوائی سے کہاں بچ سکتے ہو۔
زکات حسن دے اے جلوۂ بینش کہ مہر آسا
چراغ خانۂ درویش ہو کاسہ گدائی کا
کاسہِ گدائی دن سے استعارہ ہے کہتے ہیں: اے جلوہ گاہِ بینش میرے کشکولِ دل کو زکاتِ عرفان دے کر روشن کر دے کہ اس فقیر کے لئے وہ چراغ ہو جائے اور آفتاب کی طرح شبِ تارِ جہالت کو دور کر دے۔
نہ مارا جان کر بے جرم غافل تیری گردن پر
رہا مانند خون بے گنہ حق آشنائی کا
ملامت کرتا ہے کہ آشنائی کا حق یہ تھا کہ مجھے قتل کیا ہوتا، تو نے بے گناہ سمجھ کر میرے قتل سے کنارہ تو کیا مگر یہ خبر نہیں کہ حقِ آشنائی اسی طرح تیری گردن پر ہے جس طرح خونِ بے گناہ ہوتا ہے۔
تمناۓ زباں محو سپاس بے زبانی ہے
مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا
شاعر اپنے دل کی دو باتیں بیان کرتا ہے: ایک تو زبان آوری کی تمنا، دوسرے بے دست و پائی کا شکوہ، شکوہ کا تقاضا تھا کہ مجھے بیان کر لیکن بے زبانی کے سبب سے وہ تقاضا اس کا مٹ گیا تو گویا بے زبانی کا بڑا احسان ہوا۔ اسی احسان کی شکر گزاری میں زبان آوری کی تمنا محو ہے۔ حاصل یہ ہے کہ میرا مرتبہِ صبر ایسا بڑھا ہوا ہے کہ اپنی بے دست و پائی کا شکوہ نہیں کرتا اور بے زبانی میں یہ فائدہ دیکھ کر زبان آوری کی تمنا بھی میرے دل سے مٹ گئی۔
وہی اک بات ہے جو یاں نفس واں نکہت گل ہے
چمن کا جلوہ باعث ہے مری رنگیں نوائی کا
جلوہِ چمن سے فصلِ بہار و جوشِ گل مراد ہے، یعنی یہی ایک چیز نگہتِ گل کا بھی سبب ہے اور یہی جوشِ بہار میرے ترانہِ سرشار کا بھی باعث ہے۔ حاصل یہ کہ میرا نفس نگہتِ گل سے کم نہیں کہ علت دونوں کی ایک ہی ہے۔
دہان ہر بت پیغارہ جو زنجیر رسوائی
عدم تک بے وفا چرچا ہے تیری بے وفائی کا
پیغارہ کے معنی طعن و تشنیع کہا ہے کہ جو حسین کہ طعن و طنز ڈھونڈا کرتے ہیں ان سب کے دہن تیرے لئے زنجیرِ رسوائی ہے، یعنی ہر ایک دہن طنزگفتار کا ایک ایک حلقہ ہے، زنجیرِ رسوائی کا؛
پہلے مصرع میں ‘سے’ ہے ‘حذف’ ہے اور حسینوں کے دہن کو عدم کہتے ہیں تو جب اُن کے دہن میں تیری بے وفائی کا ذکر ہے تو گویا عدم تک پہنچ گیا اور تیری نیک نامی کے پاؤں میں زنجیرِ رسوائی پڑ گئی۔
نہ دے نامے کو اتنا طول غالبؔ مختصر لکھ دے
کہ حسرت سنج ہوں عرض ستم ہائے جدائی کا
سنجیدن فارسی میں وزن کرنے اور موزوں کرنے کے معنی پر ہے۔ ‘نواسنج و فغاں سنج و زمزمہ سنج و نکتہ سنج’ سب مانوس ترکیبیں ہیں اور فصحا کی زبان پر ہیں، لیکن متاخرین اہل زبان اور اُن کے متبعین ‘آرزو سنج و حسرت سنج و شکوہ سنج’ بھی مثلِ بے دل وغیرہ کے بہ تکلف نظم کرنے لگے ہیں اور تصنع سے خالی نہیں ہے۔
جہاں مٹ جائے سعیٔ دید خضر آباد آسائش
بہ جیب ہر نگہ پنہاں ہے حاصل رہنمائی کا
بہ عجز آباد وہم مدعا تسلیم شوخی ہے
تغافل کو نہ کر مصروف تمکیں آزمائی کا
اسدؔ کا قصہ طولانی ہے لیکن مختصر یہ ہے
کہ حسرت کش رہا عرض ستم ہائے جدائی کا
ہوس گستاخیٔ آئینہ تکلیف نظر بازی
بہ جیب آرزو پنہاں ہے حاصل دل ربائی کا
نظر بازی طلسم وحشت آباد پرستاں ہے
رہا بیگانۂ تاثیر افسوں آشنائی کا
نہ پایا دردمند دوریٔ یاران یک دل نے
سواد خط پیشانی سے نسخہ مومیائی کا
اسدؔ یہ عجز و بے سامانیٔ فرعون توام ہے
جسے تو بندگی کہتا ہے دعویٰ ہے خدائی کا
🌹 Sharing is Caring 🌹