✍️ در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا
پھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا

بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہم
الٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا

سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کا
روبرو کوئی بت آئنہ سیما نہ ہوا

کم نہیں نازش ہم نامی چشم خوباں
تیرا بیمار برا کیا ہے گر اچھا نہ ہوا

سینہ کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیا
خاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا

نام کا میرے ہے جو دکھ کہ کسی کو نہ ملا
کام میں میرے ہے جو فتنہ کہ برپا نہ ہوا

ہر بن مو سے دم ذکر نہ ٹپکے خوں ناب
حمزہ کا قصہ ہوا عشق کا چرچا نہ ہوا

قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل
کھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینا نہ ہوا

تھی خبر گرم کہ غالبؔ کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا


در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا
پھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا

یعنی پھر ہمارا کہنا کیا غلط ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا اور ہم سا کوئی آفت زدہ نہ ہوا۔


بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہم
الٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا

یعنی پھر کسی اور کی ہم کیوں اٹھانے لگے۔


سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کا
روبرو کوئی بت آئنہ سیما نہ ہوا

یعنی کسی نے مقابلہ نہ کیا۔


کم نہیں نازش ہم نامی چشم خوباں
تیرا بیمار برا کیا ہے گر اچھا نہ ہوا

یعنی اگر میں بیمار رہا تو چشمِ معشوق بھی تو بیمار ہے، یہ ہمنامی کا فخر کیا کم ہے۔


سینہ کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیا
خاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا

​یعنی جس طرح کہ قطرہ خاک میں جذب ہو کر ایک داغ خاک پر پیدا کرتا ہے، اسی طرح نالہ ضبط کرنے سے سینہ میں داغ پڑ جاتا ہے۔


نام کا میرے ہے جو دکھ کہ کسی کو نہ ملا
کام میں میرے ہے جو فتنہ کہ برپا نہ ہوا

صاف ہے۔


ہر بن مو سے دم ذکر نہ ٹپکے خوں ناب
حمزہ کا قصہ ہوا عشق کا چرچا نہ ہوا

یعنی یہ نہیں ممکن کہ خوناب نہ ٹپکے، اس شعر میں استفہامِ انکاری ہے کہ بھلا یہ ہو سکتا ہے کہ خوناب نہ ٹپکے۔


قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل
کھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینا نہ ہوا

یعنی عارف کی نظر کھیل تھوڑی ہے؟ اس شعر کو بھی استفہامِ انکاری کے طرز سے پڑھنا چاہیے۔


تھی خبر گرم کہ غالبؔ کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا

اپنی رسوائی اور موردِ اعتراف ہونے کا اظہار ہے کہ لوگ اسے تماشا سمجھے ہوئے ہیں۔


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top