✍️ یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا
کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا

کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا

رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا

غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا

کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے
مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا

اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا

یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا


یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

​یعنی مرجانا ہی بہتر ہوا۔


ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

​یعنی ہم نے جو یہ کہا کہ فقط وعدہ وصل سن کے ہم مرنے سے بچ گئے تو ہم نے جھوٹ جانا دوسرا احتمال یہ ہے کہ تیرا وعدہ سن کر جو ہم جیے تو اس کا یہ سبب تھا کہ ہم نے اُسے جھوٹا وعدہ خیال کیا اور جان بچادی ہے۔


تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا
کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا

​’جانا‘ کا فاعل ہم نے’ محذوف ہے اور نازکی بھٹی نزاکت۔


کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

​’جو‘ کا واؤ وزن سے ساقط ہو گیا اور یہ درست ہے بلکہ فصیح ہے لیکن اُس کے ساقط ہو جانے سے دو حمس میں پیدا ہو گئیں اور عیب تنافر پیدا ہو گیا لیکن خوبی مضمون کہ ایسی باتوں کا کوئی خیال نہیں کرتا۔ تیر نیم کش وہ جسے چھوڑتے وقت کمان دار نے کمان کو پورا نہ کھینچا ہو اور اسی سبب سے وہ پار نہ ہو سکا۔


یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا

​دوستوں کی شکایت ہے کہ انہوں نے نصیحت پر کیوں کمر باندھی ہے۔


رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا

​یعنی جس طرح دل میں غم چھپا ہوا ہے اگر اسی طرح شرار بن کر پتھر میں یہ پوشیدہ ہوتا تو اُس میں سے بھی لہو ٹپکتا، حاصل یہ کہ غم کا اثر یہ ہے کہ دل و جگر لہو کر دیتا ہے، پتھر کا جگر بھی ہو تو وہ بھی لہو ہو جائے۔


غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا

​’پہ‘ بمعنی مگر اور ان معنی میں یہ فصیح ہے اور آخر مصرعہ میں ’ہے‘ نامہ ہے اور پہلا ہے ناقصہ ہے۔


کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے
مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

​’کیا ہے‘ میں ضمیر مستقر ہے مرجع اس کا شبِ غم ہے جو دوسرے جملہ میں ہے کہ اگر اس شعر میں اعتبارِ قبل الذکر اور ضمیر کو مستقر نہ لیں بلکہ ’ہے‘ کا فاعل شبِ غم کو کہیں تو لطف بیج جاتا ہے تاہم خوبی اس شعر کی حد تحسین سے باہر ہے۔


ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا

​یعنی جنازہ اُٹھنے اور مزار بننے نے رسوا کیا ڈوب مرتے تو اچھے رہتے۔


اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا

​دو چار ہونے سے دکھائی دینا مراد ہے۔


یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

​اس مقطع کی شرح لکھنا ضروری نہیں بہت صاف ہے لیکن یہاں یہ نکتہ ضرور سمجھنا چاہئے کہ خبر سے انشاء میں زیادہ مزہ ہوتا ہے پہلا مصرع اگر اس طرح ہوتا کہ غالب تیری زبان سے اسرارِ تصوف نکلتے ہیں الخ تو یہ شعر جملہ خبریہ ہوتا، مصنف کی شوخی طبع نے خبر کے پہلو کو چھوڑ کر اسی مضمون کو تعجب کے پیرائے میں ادا کیا اور اب یہ شعر سارا جملہ انشائیہ ہے۔


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top