✍️ شب خمار شوق ساقی رستخیز اندازہ تھا ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


شب خمار شوق ساقی رستخیز اندازہ تھا
تامحیط بادہ صورت خانۂ خمیازہ تھا

یک قدم وحشت سے درس دفتر امکاں کھلا
جادہ اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا

مانع وحشت خرامی ہائے لیلیٰ کون ہے
خانۂ مجنون صحراگرد بے دروازہ تھا

پوچھ مت رسوائی انداز استغنائے حسن
دست مرہون حنا رخسار رہن غازہ تھا

نالۂ دل نے دیے اوراق لخت دل بہ باد
یادگار نالہ اک دیوان بے شیرازہ تھا


شب خمار شوق ساقی رستخیز اندازہ تھا
تامحیط بادہ صورت خانۂ خمیازہ تھا

​یعنی رات کو میرے شوق نے قیامت برپا کر رکھی تھی اور شوق میں بے لطفی و بے مزگی جو تھی اس وجہ سے اسے خمار سے تشبیہ دی اور کہتا ہے کہ یہاں سے لے کر دریائے بادہ تک میرے خمیازہ کا صورت خانہ بنا ہوا تھا یعنی میں نے خمار میں ایسی لمبی لمبی انگڑائیاں لیں جن کی درازی محیط بادہ تک پہنچی، غرض مصنف کی یہ ہے کہ انگڑائیاں لینے میں جو ہاتھ پاؤں پھیلتے تھے وہ گویا شراب کو ڈھونڈتے تھے۔


یک قدم وحشت سے درس دفتر امکاں کھلا
جادہ اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا

​یک قدم وحشت سے وحشت کا مرتبہ ادنیٰ مقصود ہے اور اجزائے دو عالم دشت بمنزلہ اجزائے عالم، عالم دشت یا اجزائے دو صد دشت ہے۔ جس سے مراد کثرت ویرانی ہے یعنی ممکنات نے اپنے مبدأ سے ایک ذرا سی وحشت و مغائرت کی تو عالمِ امکان موجود ہو گیا اور اس وحشت کا ایک قدم جس جادہ پر پڑا گویا وہ اوراق دو صد دشت کا شیرازہ تھا اس سبب سے کہ وحشت میں جب قدم اُٹھے گا دشت ہی کی طرف اٹھے گا اور عارف کی نظر میں تمام عالمِ امکان ویران ہے۔ دو عالم دشت کی ترکیب میں مصنف نے دشت کی مقدار کا پیمانہ عالم کو بتایا ہے جس طرح ماندگی کی مقدار کا پیمانہ بیابان کو اور تامل کی مقدار کا پیمانہ زانو کو اور آرزو کا پیمانہ شہر کو قرار دیا ہے۔


مانع وحشت خرامی ہائے لیلیٰ کون ہے
خانۂ مجنون صحراگرد بے دروازہ تھا

​مصنف نے صحرا گرد مجنوں کی صفت ڈال کر اس کے گھر کا پتہ دیا یعنی مجنوں کا گھر تو صحرا ہے اور صحرا وہ گھر ہے جس میں دروازہ نہیں پھر لیلیٰ کیوں وحشی ہو کر اس کے پاس نہیں چلی آتی کون اسے مانع ہے۔


پوچھ مت رسوائی انداز استغنائے حسن
دست مرہون حنا رخسار رہن غازہ تھا

​یعنی حسن کو باوجود استغنا ایسی احتیاج ہے کہ ہاتھ حنا کی طرف اور منہ غازہ کی طرف پھیلائے ہوئے ہے۔


نالۂ دل نے دیے اوراق لخت دل بہ باد
یادگار نالہ اک دیوان بے شیرازہ تھا

​بہ باد دیے یعنی برباد کئے اس میں پارہ دل کو اوراق سے تشبیہ دی پھر اوراق کو دیوان بے شیرازہ سے تشبیہ دی اور نالہ کو شاعر فرض کیا ہے جس نے اپنی یادگار کو آپ برباد کیا۔ بہ باد دادن فارسی کا محاورہ ہے اُردو میں برباد کرنا کہتے ہیں۔



ہوں چراغان ہوس جوں کاغذ آتش زدہ
داغ گرم کوشش ایجاد داغ تازہ تھا

بے نوائی تر صداۓ نغمۂ شہرت اسدؔ
بوریا یک نیستاں عالم بلند آوازہ تھا


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top