✍️ شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا
شعلۂ جوالہ ہر یک حلقۂ گرداب تھا

واں کرم کو عذر بارش تھا عناں گیر خرام
گریہ سے یاں پنبۂ بالش کف سیلاب تھا

واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیال
یاں ہجوم اشک میں تار نگہ نایاب تھا

جلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آب جو
یاں رواں مژگان چشم تر سے خون ناب تھا

یاں سر پر شور بے خوابی سے تھا دیوار جو
واں وہ فرق ناز محو بالش کمخواب تھا

یاں نفس کرتا تھا روشن شمع بزم بے خودی
جلوۂ گل واں بساط صحبت احباب تھا

فرش سے تا عرش واں طوفاں تھا موج رنگ کا
یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا


شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا
شعلۂ جوالہ ہر یک حلقۂ گرداب تھا

یعنی: ابر کا زہرہ آب تھا اور جو گرد اب اس میں پڑتا تھا وہ شعلۂ جوالہ تھا، یہ فقط میرے سوزِ دل کی تاثیر تھی۔


واں کرم کو عذر بارش تھا عناں گیر خرام
گریہ سے یاں پنبۂ بالش کف سیلاب تھا

یعنی: انھیں تو کرم کرنے میں بارش مانع تھی اور میرا روتے روتے یہ حال ہوا تھا کہ پان بجائے پنبہِ بالش کفِ سیلاب تھا۔


واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیال
یاں ہجوم اشک میں تار نگہ نایاب تھا

یعنی: تارِ نگہ میں اس کثرت سے آنسو پروئے ہوئے تھے کہ وہ خود پوشیدہ و مفقود ہو گیا تھا۔ جس طرح دھاگے کو موتی چھپا لیتے ہیں دیکھو پوری تشبیہ پائی جاتی ہے مگر تازگی اس بات کی ہے کہ تشبیہ دینا مقصود نہیں ہے شاعر دو مشابہ چیزیں ذکر کر رہا ہے اور پھر تشبیہ نہیں دیتا ہے۔


جلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آب جو
یاں رواں مژگان چشم تر سے خون ناب تھا

یعنی: وہاں اس کثرت سے اور اتنی دُور تک تختۂ گل تھا کہ اس کے عکس سے معلوم ہوتا تھا کہ چراغاں نہر میں ہو رہا ہے اور یہاں دُور تک خون کے آنسو بہہ نکلے تھے اور آبِ جو کے مقابلے میں چشمِ تر تھی اور شاخ ہائے گل کے جواب میں پلکوں پر لہو کی بوندیں۔ آبِ جو کے بعد ‘کو’ کا لفظ حذف کر دینا کچھ اچھا نہیں معلوم ہوتا۔


یاں سر پر شور بے خوابی سے تھا دیوار جو
واں وہ فرق ناز محو بالش کمخواب تھا

یعنی: نیند نہ آنے کے سبب سے میرا سر دیوار کو ڈھونڈ رہا تھا اور میں سر ٹکرانا چاہتا تھا۔


یاں نفس کرتا تھا روشن شمع بزم بے خودی
جلوۂ گل واں بساط صحبت احباب تھا

یعنی: ہماری محفل میں شمعِ آہ روشن تھی اور وہاں کی صحبت میں پھولوں کا فرش تھا، احباب سے معشوق کے احباب مراد ہیں۔


فرش سے تا عرش واں طوفاں تھا موج رنگ کا
یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا

یعنی: وہاں رنگ و عیش کی رنگ رلیاں ہو رہی تھیں اور ہم یہاں جل رہے تھے سوختن کے باب سے ماضی و حال و مستقبل کی تصریف مراد ہے نزاکت یہ ہے کہ اس امتدادِ زمانہ کو جو تصریف میں ہے مصنف نے امتدادِ مکانی پر منطبق کیا ہے دوسرا پہلو یہ بھی نکلتا ہے کہ یہاں کا زمین و آسمان آگ لگا دینے کے قابل ہے۔


ناگہاں اس رنگ سے خوں نابہ ٹپکانے لگا
دل کہ ذوق کاوش ناخن سے لذت یاب تھا

یعنی: اس رنگ سے جو آگے کی غزل میں آتا ہے اور کاوشِ ناخن استعارہ ہے کاوشِ غم سے۔


شب کہ ذوق گفتگو سے تیری دل بیتاب تھا
شوخیٔ وحشت سے افسانہ فسون خواب تھا

لے زمیں سے آسماں تک فرش تھیں بیتابیاں
شوخیٔ بارش سے مہ فوارۂ سیماب تھا

واں ہجوم نغمہ ہائے ساز عشرت تھا اسدؔ
ناخن غم یاں سر تار نفس مضراب تھا


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top