✍️ محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا

رنگ شکستہ صبح بہار نظارہ ہے
یہ وقت ہے شگفتن گل ہائے ناز کا

تو اور سوئے غیر نظر ہائے تیز تیز
میں اور دکھ تری مژہ ہائے دراز کا

صرفہ ہے ضبط آہ میں میرا وگرنہ میں
طعمہ ہوں ایک ہی نفس جاں گداز کا

ہیں بسکہ جوش بادہ سے شیشے اچھل رہے
ہر گوشۂ بساط ہے سر شیشہ باز کا

کاوش کا دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوز
ناخن پہ قرض اس گرہ نیم باز کا

تاراج کاوش غم ہجراں ہوا اسدؔ
سینہ کہ تھا دفینہ گہر ہائے راز کا


محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا

یعنی جس چیز کو تو عالمِ حقیقت کا حجاب سمجھتا ہے وہ رباب کا ایک پردہ ہے جس سے نغمہ ہائے رازِ حقیقت بلند ہیں مگر اس کے تال سر سے تو خود ہی واقف نہیں لطف نہیں اٹھا سکتا۔


رنگ شکستہ صبح بہار نظارہ ہے
یہ وقت ہے شگفتن گل ہائے ناز کا

یعنی نظارہ اس کا موسمِ بہار ہے اور نظارہ سے اُس کے میرا رنگ اُڑ جانا طلوعِ صبحِ بہار ہے اور طلوعِ صبحِ بہار پھولوں کے کھلنے کا وقت ہوتا ہے غرض یہ ہے کہ بر وقت نظارہ میرے منہ پر ہوائیاں اُڑتے ہوئے اور مہتاب چھٹتے ہوئے دیکھ کر وہ سرگرمِ ناز ہوگا یعنی میرا رنگ اُڑ جانا وہ صبح ہے جس میں گل ہائے ناز شگفتہ ہوں گے۔


تو اور سوئے غیر نظر ہائے تیز تیز
میں اور دکھ تری مژہ ہائے دراز کا

اس شعر میں ہائے یا تو علامتِ جمع و اضافت ہے یا کلمہ تاسف ہے، دونوں صورتیں صحیح ہیں۔


صرفہ ہے ضبط آہ میں میرا وگرنہ میں
طعمہ ہوں ایک ہی نفس جاں گداز کا

اس شعر میں اپنی ناتوانی و نقاہت اور اپنی آہ کی شدت و حدت کا بیان مقصود ہے یعنی اگر ضبط نہ کروں تو ایک ہی آہ میں تحلیل ہو کر فنا ہو جاؤں۔


ہیں بسکہ جوش بادہ سے شیشے اچھل رہے
ہر گوشۂ بساط ہے سر شیشہ باز کا

شیشہ باز مراد شعبدہ باز کو کہتے ہیں جو کہ شعبدہ دکھاتے وقت ہاتھوں کو اور سر کو ہلاتا ہے اور بساط سے وہ فرش مراد ہے جس کے گوشوں پر شراب کے شیشے چنے ہوئے ہیں۔


کاوش کا دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوز
ناخن پہ قرض اس گرہ نیم باز کا

یعنی دل میرا جو کہ تنگی و گرفتگی سے گرہ ہو کے رہ گیا ناخنِ غم سے کاوش کا تقاضا کرتا ہے جیسے کوئی اپنا قرض مانگتا ہے اور نیم باز کے لفظ سے یہ ظاہر ہے کہ کاوشِ غم پہلے بھی ہوئی مگر ناتمام ہوئی۔


تاراج کاوش غم ہجراں ہوا اسدؔ
سینہ کہ تھا دفینہ گہر ہائے راز کا

یعنی اے اسد! افسوس دفینہِ راز کو غم نے کھود کر نکالا اور تاراج کیا، حاصل یہ کہ غم نے رسوا کیا۔


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top