✍️ دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھا ✍️
( مرزا اسد اللہ غالب )
دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھا
عشق نبرد پیشہ طلب گار مرد تھا
تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
اڑنے سے پیشتر بھی مرا رنگ زرد تھا
تالیف نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں
مجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا
دل تا جگر کہ ساحل دریائے خوں ہے اب
اس رہ گزر میں جلوۂ گل آگے گرد تھا
جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہ عشق کی
دل بھی اگر گیا تو وہی دل کا درد تھا
احباب چارہ سازی وحشت نہ کر سکے
زنداں میں بھی خیال بیاباں نورد تھا
یہ لاش بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھا
عشق نبرد پیشہ طلب گار مرد تھا
بابِ نبرد یعنی لائقِ نبرد۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص مردِ میدانِ عشق نہ تھا وہ اس کی دھمکی ہی میں مر گیا، میر ممنون کے کلام میں باب ان معنی پر بہت جگہ آیا ہے۔
تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
اڑنے سے پیشتر بھی مرا رنگ زرد تھا
یعنی رنگ میرا جب نہیں اُڑا تھا جب بھی زرد تھا، ورنہ مرنے کے وقت تو سبھی کا رنگ اڑ کر زرد ہو جاتا ہے اور مردنی چہرہ پر پھر جاتی ہے، یعنی اڑنے سے مرنے کے وقت اُڑنا رنگ کا مقصود ہے۔
تالیف نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں
مجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا
یعنی فنِ عشق میں مجھے اور بھی مرتبہ تصنیف حاصل ہو چکا تھا، میرے عقل و ہوش کا مجموعہ تک فرد فرد غیر مرتب ہو رہا تھا یعنی ناتجربہ کاری کا زمانہ تھا۔
دل تا جگر کہ ساحل دریائے خوں ہے اب
اس رہ گزر میں جلوۂ گل آگے گرد تھا
یعنی میرے دل سے لے کر جگر تک اب تو ایک دریائے خون ہے آگے اسی رہ گزر میں وہ بہاریں تھیں کہ جلوۂ گل جس کے آگے گرد ہوا جاتا تھا، یعنی کسی زمانہ میں ہم بھی دلِ شگفتہ و رنگین رکھتے تھے اور اب خاطرِ افسردہ و غمگین رکھتے ہیں۔
جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہ عشق کی
دل بھی اگر گیا تو وہی دل کا درد تھا
یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی طرح اندوہِ عشق کم ہو جائے، دل بھی جاتا رہا، جب بھی اسی طرح دردِ دل باقی رہا، وہی کے معنی، اسی طرح دوسرا پہلو یہ ہے کہ دل کا جانا خود ہی دردِ دل ہے۔
احباب چارہ سازی وحشت نہ کر سکے
زنداں میں بھی خیال بیاباں نورد تھا
یعنی میں زنداں میں بند تھا، مگر میرا خیال بیاباں میں تھا، کچھ قید سے چارہ سازیِ وحشت نہ ہوئی۔
یہ لاش بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
یعنی عجب آزاد تھا کہ لاش بے کفن ہے۔
🌹 Sharing is Caring 🌹