✍️ کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا

دوست دار دشمن ہے اعتماد دل معلوم
آہ بے اثر دیکھی نالہ نارسا پایا

سادگی و پرکاری بے خودی و ہشیاری
حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا

غنچہ پھر لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل
خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا

حال دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی
ہم نے بارہا ڈھونڈا تم نے بارہا پایا

شور پند ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا


کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا

یعنی تمہاری چتون یہ کہہ رہی ہے کہ تیرا دل کہیں پڑا پائیں گے تو پھر ہم نہ دیں گے، یہاں دل ہی نہیں ہے جسے ہم کھوئیں اور تمہیں پڑا ہوا مل جائے، مگر اس لگاوٹ سے ہم سمجھ گئے دل تمہارے ہی پاس ہے۔


عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا

یعنی زیست میرے لئے ایک درد تھی کہ عشق اس کی دوا ہو گیا اور خود وہ دردِ بے دوا ہے۔


دوست دار دشمن ہے اعتماد دل معلوم
آہ بے اثر دیکھی نالہ نارسا پایا

یعنی آہ میں اثر نہیں، نالہ میں رسائی نہیں، دل پر بھروسہ نہیں کہ وہ دشمن کا دوست ہے۔


سادگی و پرکاری بے خودی و ہشیاری
حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا

یعنی حسینوں کا تغافل کرنا اور عشاق کے حال سے بے خبر بننا یہ فقط عشاق کا دل دیکھنے کے لئے اور جرأت آزمانے کے واسطے ہے، اصل میں پرکاری و ہوشیاری ہے اور ظاہر میں سادگی و بے خبری ہے۔


غنچہ پھر لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل
خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا

ایک عاشق بے دل غنچہ پر یہ گمان کرتا ہے کہ یہی میرا دل ہے جو مدت سے کھویا ہوا تھا۔


حال دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی
ہم نے بارہا ڈھونڈا تم نے بارہا پایا

ڈھونڈا اور پایا کا مفعول “دل” ہے۔

شور پند ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا

‘آپ’ کا اشارہ ناصح کی طرف ہے اور اس میں تعریض نکلتی ہے اور مقصود تشنیع ہے اور مزہ اور شور نمک کے مناسبات میں سے ہیں، مصنف نے ‘مزہ’ کو قافیہ کیا اور ہائے مختفی کو الف سے بدلا، اردو کہنے والے اس طرح کے قافیہ کو جائز سمجھتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ قافیہ میں حروفِ ملفوظ کا اعتبار ہے، جب یہ ‘ہ’ ملفوظ نہیں بلکہ ‘ز’ کے اشباع سے الف پیدا ہوتا ہے تو پھر کون مانع ہے اسے حرفِ روی قرار دینے سے، اسی طرح سے فوراً اور دشمن قافیہ ہو جاتا ہے، گو رسمِ خط اس کے خلاف ہے، لیکن فارسی والے مزہ اور دوا کا قافیہ نہیں کرتے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ وہ ہائے مختفی کو کبھی حرفِ روی ہونے کے قابل نہیں جانتے۔


ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا

بے دماغ خجلت ہوں رشک امتحاں تا کے
ایک بیکسی تجھ کو عالم آشنا پایا

خاک بازی امید کارخانۂ طفلی
یاس کو دو عالم سے لب بہ خندہ وا پایا

کیوں نہ وحشت غالب باج خواہ تسکیں ہو
کشتۂ تغافل کو خصم خوں بہا پایا

فکر نالہ میں گویا حلقہ ہوں ز سر تا پا
عضو عضو جوں زنجیر یک دل صدا پایا

شب نظارہ پرور تھا خواب میں خیال اس کا
صبح موجۂ گل کو نقش بوریا پایا

جس قدر جگر خوں ہو کوچہ دادن گل ہے
زخم تیغ قاتل کو طرفہ دل کشا پایا

ہے نگیں کی پا داری نام صاحب خانہ
ہم سے تیرے کوچے نے نقش مدعا پایا

نے اسدؔ جفا سائل نے ستم جنوں مائل
تجھ کو جس قدر ڈھونڈا الفت آزما پایا


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top