آپ کا وقت محدود ہے۔
’روح کا تکبر اس کا اپنا سب سے بڑا دشمن ہے۔‘
(ارسطو)
دو فقیر ایک درخت کے ساتھ کمر ٹِکائے بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے سامنے ایک ندی بہ رہی تھی۔ وہ بہت خوب صورت دِن تھا مگر پھر بھی اُن میں سے ایک غیر مطمئن اور اُداس فقیر، دوسرے فقیر سے کہنے لگا۔
” جانتے ہو، بھیک مانگنا کِس قدر اذیت ناک ہے۔ ذرا غور کرو، پارک کے بنچوں پر یا سردی میں فٹ پاتھ پر ٹھٹھرتے ہوئے راتیں کاٹنا۔ کبھی مال گاڑیوں میں چُھپ کر سفر کرنا اور پولیس کی نگاہوں سے بچنے کی ہمہ وقت فِکر میں رہنا۔ ایک شہر سے دوسرے شہر بھٹکتے رہنے کی مسلسل ذلالت برداشت کرنا کہ پتہ نہیں اگلی روٹی کہاں سے مِلے۔ کتوں کی طرح آوارہ گردی اور پھر اپنے ہی ساتھیوں سے پیشہ ورانہ خوف…. ”
اس نے ایک لمبی سی دُکھ بھری آہ بھری تو دوسرا فقیر بولا،
” اچھا، اگر تم اتنے ہی پریشان ہو تو پھر تُم یہ کام چھوڑ کر کوئی اور کام کیوں نہیں ڈھونڈتے؟”
پہلے فقیر نے ایک دم چونک کر، ذرا سخت لہجے میں جواب دیا،
”واہ بھئی، تمہارا مطلب ہے کہ میں دنیا کے سامنے یہ مان لوں کہ میں ایک ناکام شخص ہوں؟۔”
سوشل ویلیڈیشن انسان کا ایک ایسا خودساختہ پریشر ہے، جس کے بوجھ تلے وہ بہت زیادہ تکلیف کا شکار رہتا ہے مگر اپنی جھوٹی انا قائم رکھنے کے لیے درست سمت آگے نہیں بڑھتا۔ درست منزل کا انتخاب صرف محنت نہیں مانگتا بلکہ سچائی تسلیم کرنے کی ہمت بھی طلب کرتا ہے۔
اس ڈر سے کہ لوگ ہمیں ناکام تصور کریں گے، ہم اپنی حالت بدلنے کی بجائے کوئی نہ کوئی جواز گھڑ لیتے ہیں اور اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے جھوٹی انا میں مبتلا رہتے ہیں۔ سگمنڈ فرائیڈ کے بقول؛ ’بیشتر لوگ حقیقتا آزادی نہیں چاہتے، کیوں کہ آزادی میں ذمہ داری شامل ہوتی ہے، اور بیشتر لوگ ذمہ داری سے ڈرتے ہیں۔‘
اپنی اسی غیر ذمہ دارانہ سوچ کی بنا پر لوگ تبدیلی کے ممکنہ نقصانات کو حقیقی سے زیادہ اور اس کے فوائد کو حقیقی سے کم تر سمجھ کر خود فریبی کا شکار رہتے ہیں۔
’آپ کا وقت محدود ہے، اسے لیے اسے کسی دوسرے کی زندگی جی کر ضائع نہ کریں۔‘
(سٹیو جابز)
🌹 Sharing is Caring 🌹