آپ کتنی شدت سے گرے تھے؟


کبھی کوشش کی؟ کبھی ناکام ہوئے؟ کوئی بات نہیں۔ دوبارہ کوشش کرو۔ دوبارہ ناکام ہو۔ اس بار بہتر ناکام ہو۔ (سیموئیل بیکٹ)

بارہا ناکامی کے باوجود آگے بڑھتے رہنا، ہر بار گر کر بھی خود کو سنبھالنا، ثابت قدم رہ کر اپنی منزل کی طرف نظر رکھنا، اور پھر ہر بار خود کو یہ یقین دلانا کہ ناکامی کا تسلسل خطرناک نہیں، ہمت کا ٹوٹ جانا خطرناک ہے؛ انسان کے مقصد کو بالآخر اس کے قدموں میں لے آتا ہے۔

’’ اصل بات یہ نہیں کہ آپ کتنی شدت سے گرے، بلکہ یہ ہے کہ آپ کتنی توانائی سے واپس ابھرے۔‘‘ (زِگ زِیگلر)


کرنل سینڈرز کینٹکی فرائیڈ چکن (KFC) کا بانی ہے، جو موجودہ دنیا کے سب سے بڑے فوڈ چینز (Food Chains) میں سے ایک ہے۔ ایلیمنٹری سکول میں پانچویں سال اس کی تعلیم ادھوری رہ گئی مگر بعد میں اس نے فاصلاتی تعلیم کے ذریعے لاء کی ڈگری حاصل کر لی۔

جب سینڈرز کی عمر چھ سال تھی، اس کا والد فوت ہو گیا اور اسے فیملی کے لیے کھانا خود بنانا پڑتا کیوں کہ اس کی ماں کام کرتی تھی۔ نوجوانی میں اسے فائر فائیٹر، سٹیم بوٹ (بھاپ کے ایندھن سے چلنے والی کشتی) ڈرائیور، انشورنس سیلز مین اور کیوبا کی آرمی میں عام فوجی کی خدمات سمیت کئی کام کرنا پڑے۔ 40 برس کی عمر میں، ریاست کینٹکی کے شہر کوربن میں راہ گیروں کے طعام کے لیے چِکن سروس کا آغاز کیا۔ اس کی شہرت بڑھنے لگی اور وہ موٹل (شاہرہ پر بنا ہوا ہوٹل، جہاں ٹھہرنے اور پارکنگ کا انتظام بھی ہو) اور ریستوران میں بطور شیف (باورچی) کام کرنے لگا۔

مگر سب ٹھیک نہیں چل رہا تھا۔ اپنی عمر کی ساٹھ کی دہائی میں بھی سینڈرز مفلسی کا شکار تھا۔ پریشر کُکر میں مخصوص طریقے سے چکن فرائی کرنے کا لائسنس حاصل کرنے کے لیے اسے امریکہ میں طویل اور تکلیف دہ سفر کی مصیبت سے بھی گزرنا پڑا جس دوران وہ پیسے بچانے کی خاطر کار میں ہی سوتا رہا۔ اس کا مدعا یہ تھا کہ ہر فرائیڈ چِکن کی فروخت
کے بدلے ریستوران کے مالک اسے پانچ سینٹس ) Cent ایک ڈالر کا دسواں حصہ) دیں گے۔

دو سال تک وہ ایک ہزار آٹھ بار ناکام ہوا اور پھر آخر کار وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو ہی گیا اور یوں KFC کی بنیاد پڑی۔

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top