آنکھیں کھولیے؛ خوف کو رخصت کیجیے۔




ایک رات، جب ازابیل سوئی ہوئی تھی۔
ایک ڈرائونا خواب، اسے دبوچنے کے لیے، دھیرے دھیرے، اس کی اور بڑھنے لگا،
یہ ڈائنو سار سے زیادہ خوف ناک تھا اور شارک سے بھی زیادہ خوفناک تھا، یہ خواب
تاریکی میں وحشت بھرا رقص کرتے آکٹوپس سے بھی زیادہ خوف ناک
” ہاوو” ” ہاوو” بھیانک لہجے میں، دانت پیستے ہوئے، خواب نے کہا،
” میں آج تجھے اندر تک ہِلا دوں گا۔”
ازابیل ، بالکل نہ گھبرائی۔
وہ چیخی اور نہ ڈر کے بھاگی۔
ازابیل کے پاس اس سے کہیں زیادہ بہتر تدبیر تھی
اُس نے صِرف آنکھ کھول دی، اور خواب کو بے وقوف بنا دیا۔
(اوگڈن نیش)



جب ہم خوف سے فرار چاہتے ہیں تو یہ مزید بڑھتا ہے۔ اسے ختم کرنے کا واحد رستہ یہی ہے کہ خوف کو ’تسلیم‘ کیا جائے ۔تب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ خوف محض وہم تھا اور ہمارے شعور کی بیداری سے وہ وہم رخصت ہو گیا۔

’’بہادری خوف کی عدم موجودگی کا نام نہیں بلکہ اس پر فتح پانے کا نام ہے۔” (نیلسن منڈیلا)

خوفناک حالات سے کہیں زیادہ ان کے بارے میں ہمارے اپنے خیالات ہمیں پریشان کرتے ہیں۔ خارجی واقعات پر ہمارا کنٹرول نہ بھی ہو، پر اپنے ذہن پر تو ہمیں اختیار حاصل ہے۔ اگر ہم اپنا یہ اختیار عقل مندی سے استعمال کرتے ہوئے ’صرف اپنی آنکھ کھول کر‘ اپنا ردعمل ظاہر کریں تو بیرونی پریشانیوں پر بھی ہم قابو پا سکتے ہیں۔

خاموش شعور چیختے ہوئے شور سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ خوف کی سب سے بڑی شکست ’آنکھ کھولنے‘ سے ہو جاتی ہے۔ یہی وہ خود شناسی ہے جو تبدیلی کی طرف پہلا قدم ہے۔


’’جب تک آپ اپنے لاشعور کو شعور میں نہیں لاتے، یہ آپ کی زندگی کو کنٹرول کرتا رہے گا اور آپ اسے اپنی تقدیر کہتے رہیں گے۔‘‘
(کارل یونگ)

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top