اندر سے چمکنے والی روشنی
’’ جو باہر دیکھتا ہے، وہ خواب دیکھتا ہے؛ جو اپنے اندر دیکھتا ہے، وہ بیدار ہوتا ہے۔ (کارل یونگ)
انسانی دماغ ایک مقناطیس کی مانند ہے؛ جو کچھ ہم اپنے بارے میں سوچتے ہیں، وہی رویہ دوسرے ہمارے بارے میں اپناتے ہیں۔ دنیا ہمیں اسی قیمت پر خریدتی ہے، اپنی جو قیمت ہم خود لگاتے ہیں۔
انسان کی اپنی ذات ہی کائنات کا مرکز ہے۔ اگر مرکز کمزور ہو تو دائرہ کبھی مکمل نہیں ہو سکتا۔ خود پر یقین نہ ہونا، زندگی کے بنیادی مرکز سے انحراف ہے۔
شعبہ جرنلزم میں نام کمانے کے خواہش مند ایک نوجوان جرنلسٹ نے اخبار میں اشتہار پڑھا تو خیال کیا کہ یہی سنہری موقع ہے اور پھر منزل پانے کی جستجو میں اشتہار میں درج فون نمبر پر کال کی تو اسے کہا گیا؛ کَل صبح 10 بجے انٹرویو لیا آ جائیے گا۔
C.V ہاتھ میں لیے، وہ اگلے روز صبح سویرے ہی ادھر پہنچ گیا۔ تاہم، قدرے مایوس ہوا کیوں کہ کئی امیدوار اس سے بھی پہلے اُدھر قطار بنائے کھڑے تھے۔ وہ قطار میں کھڑا ہو گیا اور تمام صورت حال کا جائزہ لیتا رہا۔ پھر جانے کیا خیال آیا کہ اُس نے کاغذ کے ایک ٹکڑے پر کوئی تحریر لکھی، اور سیکریٹری کو تحریر دے کر تاکید کی؛
یہ بہت اہم ہے اس لیے براہِ کرم فورًا باس تک پہنچا دے۔
جب باس نے وہ تحریر پڑھی تو اس کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی اور وہ خود اس نوجوان سے ملنے کے لیے آرزو مند ہو گیا جس نے یہ تحریر لکھی تھی۔
نوجوان نے لکھا تھا،
”جنابِ محترم ، میں انٹرویو کی قطار میں دسویں نمبر پر کھڑا ایک قابل نوجوان ہوں۔ مہربانی کر کے تب تک کوئی حتمی فیصلہ نہ کیجئے گا جب تک آپ مجھ سے مِل نہیں لیتے، شکریہ۔”
’’جو روشنی اپنے اندر سے چمکتی ہے، اسے کوئی مدھم نہیں کر سکتا۔‘‘
(مایا اینجلو)
🌹 Sharing is Caring 🌹