بھوت اپنی شکلیں بدلتا رہتا ہے۔


ایک شخص کی بیوی نے مرتے وقت اس سے کہا،
’’مجھے آپ سے بے پناہ محبت ہے۔ میں آپ کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہتی اور یہ بھی نہیں چاہتی، آپ مجھے دھوکا دیں۔
وعدہ کریں، اگر میں مر گئی تو آپ کسی اور کے نہیں ہوں گے اور اگر ایسا ہُوا تو میں آسیب بن کر آپ کی زندگی اجیرن کر دوں گی۔‘‘

بیوی کی موت کے بعد کئی ماہ تک وہ دوسری خواتین سے احتراز کرتا رہا۔ پھر ایک روز وہ کسی خاتون سے مِلا اور دونوں محبت کر بیٹھے۔ جس روز منگنی ہوئی اس رات، اُس کی سابقہ بیوی کا بھوت اُس کے سامنے آ کھڑا ہُوا۔ شوہرکی بے وفائی پر وہ سخت غصے میں تھی۔ اس کے بعد ہر رات وہ اپنے شوہر کو طعنہ دینے آ جاتی۔ اُس کے اور منگیتر کے مابین دن بھر جو معاملات ہوتے اُس کی سابقہ بیوی کا بھوت اسے سب بتا دیتا، حتیٰ کہ ان کے درمیان ہونے والی باتوں کا ایک ایک لفظ دہرا دیتا۔ شوہر اس قدر پریشان ہو جاتا کہ رات بھر سو نہ پاتا۔

مایوسی کے عالم میں، وہ مشورہ لینے کے لیے گاوں کے قریب مقیم زین ماسٹر کے پاس حاضر ہُوا۔
’’یہ تو بڑا چالاک بھُوت ہے۔‘‘
اس بے چارے کی کہانی سُن کر ماسٹر نے کہا۔

’’ ہاں، ایسا ہی ہے۔‘‘
اُس شخص نے جواب دیا۔
’’سارا دِن جو کچھ میں کہتا ہوں یا کرتا ہوں، اسے سب یاد ہوتا ہے۔‘‘

ماسٹر نے مسکراتے ہوئے کہا،
’’ یہ بھوت واقعی تعریف کے لائق ہے، پَر اَب میں بتاتا ہوں، تمہیں آگے کیا کرنا ہے۔‘‘

اس رات جب بھُوت اُس کے پاس آیا، ماسٹر کی دی گئی ہدایات کے مطابق وہ شخص بھوت سے کہنے لگا۔
’’ تم بہت عقل مند بھوت ہو۔ تمہیں علم ہے، میں تُم سے کچھ نہیں چھپا سکتا- اگر تُم میرے ایک سوال کا جواب دے دو تو میں منگنی توڑ دوں گا اور ساری زندگی اکیلے ہی بسر کر دوں گا۔‘‘

’’ پوچھو ، جو پوچھنا ہے۔‘‘
بھوت نے کہا۔

شوہر نے فرش پر پڑے ایک بڑے تھیلے سے مٹھی بھر لوبیا کے دانے نکالتے ہوئے سوال کیا:
’’ بتاو، میرے باتھ میں لوبیا کے دانوں کی صحیح تعداد کیا ہے؟‘‘

بھوت ایک دم سے غائب ہو گیا اور پھر کبھی واپس نہیں آیا۔


بھُوت، اُس کی اپنی ہی ذات کا ” وہم” ہے جو اس شخص کی معلومات کی حد، خوف کی شدت اور جذبات کی گہرائی سے جنم لیتا ہے۔ بھوت بس وہی کچھ جانتا ہے، جتنی جان کاری اس شخص کی ہے اور یہ انسان کے اپنے ضمیر یا ماضی کا ایسا پچھتاوا بھی ہے جس پر اسے احساس ِ شرمندگی ہے۔

’’بھوت دراصل ہمارے دبے ہوئے جذبات کی واپسی ہے۔‘‘ (سگمنڈ فرائیڈ)

یہ ہمارے اندر کے خوف کا بیرونی اظہار اور داخلی تعبیر ہے۔ یونگ کے مطابق انسان کا سب سے بڑا خوف اس کا شیڈو سیلف ہوتا ہے، یعنی اپنی ذات کا وہ پہلو جسے وہ قبول نہیں کر پاتا اور وہ اس کے سامنے بیرونی شکل میں ظاہر ہو جاتا ہے۔
انسان جب اپنے علم، تجربے اور اپنے اندر کے خوف کو سمجھنے لگتا ہے تو بھوت کی شکلیں بھی بدلتی جاتی ہیں۔


ہم اشیاء کو ویسے نہیں دیکھتے جیسے وہ ہیں، بلکہ ویسے دیکھتے ہیں جیسے ہم ہیں۔ (کانٹ)

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top