آرزو کے بدلتے چہرے
ایک ہوائی جہاز کے پائلٹ نے پرواز کے دوران نیچے پہاڑوں کے دامن میں ایک دلکش جھیل کو دیکھا تو اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا۔
”تمہیں پتہ ہے، جب میں نوجوان لڑکا تھا تو میں ایسی ہی ایک جھیل سے مچھلیاں پکڑتا تھا۔ کشتی میں بیٹھے ہوئے جب بھی میں کسی اڑتے ہوئے جہاز کو دیکھتا تو میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی؛ کاش میں بھی جہاز اڑا رہا ہوتا، اور اب، میں جب بھی کسی جھیل کی جانب دیکھتا ہوں تو میرا مَن چاہتا ہے؛ کاش میں آرزو کے بدلتے چہرے ہوتا۔
ہم اکثر اس غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ بیرونی کامیابی ہی اندرونی خوشی کا واحد ذریعہ ہے حالانکہ خوشی کا تعلق انسان کا اپنے کام میں انہماک اور اس کی معنی خیزی میں ہے۔
انسان ان چیزوں کو زیادہ پرکشش سمجھتا ہے جو اس کی رسائی سے باہر ہوں۔ دور کے ڈھول سہانے لگتے ہیں جب تک کہ وہ ڈھول گلے پڑ نہ جائیں۔
انسانی فطرت میں بے چینی ہے۔ سکون صرف کسی پیشے کا حصول نہیں بلکہ اس بے چینی پر قابو پانے میں بھی ہے۔
’’زندگی میں دو ہی المیے ہیں؛ ایک یہ کہ، آپ کو وہ نہ ملے جس کی آپ کو تمنا ہے اور دوسرا یہ کہ ، وہ مل جائے۔‘‘ (آسکروائلڈ)
ٹولکین کا خیال ہے، ہر وہ شخص جو بھٹکتا ہے، گمشدہ نہیں ہوتا۔
یوں، مچھیرے سے پائلٹ اور پھر دوبارہ مچھیرے کی طرف دل کا بھٹکنا گمشدگی نہیں بلکہ خودشناسی کا سفر بھی ہو سکتا ہے۔
🌹 Sharing is Caring 🌹