پھر بھی آوارہ مزاجوں کا سفر جاری ہے


انسانی عظمت یہی ہے کہ وہ اپنی راہ میں آنے والی مشکلات کے سامنے ہتھیار نہ ڈالے۔ وہ جتنی بار گرے، ہر بار پہلے سے زیادہ پر عزم ہو کر اٹھے اور زیر لب یہی شعر گنگناتے ہوئے استقامت سے اپنا سفر جاری رکھے۔

قافلے ریت ہوئے دشتِ جنوں میں کتنے
پھر بھی آوارہ مزاجوں کا سفر جاری ہے

(شاعر: فرحت عباس شاہ)


انسان اپنی ہر ناکامی کو سیکھنے کا عمل سمجھ کر ہر رکاوٹ کو پہلے سے بہتر حکمت عملی سے عبور کرنے کی جدوجہد کرے تو اس کے جذبے کی سچائی دیکھ کر منزل خود اس کے سامنے آ جاتی ہے۔
جدوجہد یہی ہے کہ؛
’’جب آپ اپنی رسی کے اختتام پر پہنچ جائیں تو گرہ لگائیں اور لٹکے رہیں۔ ‘‘ (روزویلٹ)
اور ہار نہ مانیں۔


جولائی، 1952ء کی صبح کیلی فورنیا کا ساحل دُھند میں لِپٹا ہُوا تھا۔ مغرب کی طرف 22 کلو میٹر فاصلے پر جزیرہ کیٹا لِینا میں، ایک چونتیس سالہ ماہر تیراک خاتون فلورینس چیڈوک پانی میں اتری اور کیلی فورنیا کی جانب تیرنا شروع ہو گئی۔ اس سے قبل، وہ اِنگلش چینل کے دونوں طرف تیراکی میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ چکی تھی۔ اب اس کا عزم تھا، کیٹا لِینا چینل تیر کر عبور کرنے والی پہلی خاتون بنے۔

نیشنل ٹی وی پر لاکھوں افراد یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ ٹھنڈ، چیڈوک کی ہڈیوں تک اُتر گئی، پَر وہ دلیری سے دُھند کی دبیز تہ کو کاٹتی اور شارکوں سے بچتی بچاتی آگے بڑھتی گئی۔ کئی بار تو رائفلوں کی مدد سے شارکوں کو دُور بھگانا پڑا۔ وہ تھکی تو نہیں مگر برفیلے پانی نے چیڈوک کے ہوش مایوسانہ حد تک گُم کر دیئے۔ اس جان لیوا جدوجہد میں اپنے تیراکی کے چشمے سے ساحل کے نظارے کی منتظر چیڈوک کو گہری دھند کے سوا کچھ نظر نہ آیا تو وہ ہمت ہار گئی۔

اگرچہ وہ ہار ماننے والوں میں نہیں تھی، پر پھر بھی وہ چِلّائی اور کشتی پر بیٹھے اپنے ٹرینر اور ماں سے فریاد کرنے لگی کہ اسے پانی سے باہر نکالا جائے۔ انہوں نے اُس کی ہمت بندھانے کی کوشش کی مگر جب بھی وہ کیلی فورنیا ساحل کی تمنا کرتی، اسے دبیز دھند کے سوا کچھ نظر نہ آتا۔ پندرہ گھنٹے اور پچپن منٹ کی جاں فشانی کے باوجود، اسے بالآخر پانی سے نکال کر کشتی میں کھینچ لیا گیا۔

منجمد ہڈیوں سے کپکپاتی شکست خوردہ چیڈوک تب ڈھے پڑی جب اسے معلوم ہوا، وہ کیلی فورنیا سے صرف آدھ میل دُور تھی۔ اس ناکامی پر اسے سخت دھچکا لگا۔ دُھند نے اسے شکست دے دی تھی۔
اُس نے رپورٹر سے بات کرتے ہوئے کہا،
”سَر، میں کوئی عذر پیش نہیں کر رہی لیکن اگر میں اس وقت ساحل کو دیکھ پاتی تو مجھے یقین ہے، میں کامیاب ہو جاتی۔”

اس کی شکست کی ذمہ دار نہ تھکن تھی اور نہ سخت سردی، بلکہ دُھند نے اسے مات دی تھی کیونکہ اس نے اس کی منزل کو دُھندلا دیا تھا۔ اس کی عقل، آنکھ اور سب سے بڑھ کر دِل پر پردہ ڈال دیا تھا۔

دو ماہ بعد ، چیڈوِک پھر اُسی چینل کو عبور کرنے کے لیے پانی میں اتری۔ دھند نے پھر سے منظر دھندلا دیا مگر اب کے وہ اس پختہ عزم کے ساتھ تیرتی رہی کہ اُسی دھند میں اس کی منزل بھی چھپی ہوئی ہے۔ اس بار وہ جیت گئی۔

نہ صرف یہ کہ وہ کیٹا لِینا چینل ( جزیرہ کیٹالینا کی آبی گزرگاہ) کو تیر کر عبور کرنے والی پہلی خاتون بن گئی تھی بلکہ وہ مَرد تیراک کے بنائے ہوئے ریکارڈ سے بھی دو گھنٹے قبل منزل تک پہنچ گئی۔




ہار مت مانو

جب سب کچھ غلط ہو رہا ہو، جیسا کہ کبھی کبھار ہو جاتا ہے
جب تمہارا رستہ پہاڑ کی بلندی کی طرح دشوار گزار ہو جائے
جب وسائل کم ہوں اور مسائل بے شمار
جب تُم مسکرانا چاہتے ہو مگر آنسو بہانے پر مجبور ہو جاو
جب پریشانی کے بوجھ تلے تم دبتے چلے جاو
بہت ضروری ہے تو کچھ دیر سانس لے لو، پر، کبھی ہار نہ مانو

زندگی عجیب کھیل ہے؛ کبھی ہار، کبھی جیت
ہر کوئی کبھی نہ کبھی اس حقیقت سے آشکار ہوتا ہے
کہ ناکامی کا رُخ موڑا جا سکتا ہے
ہار مت مانو، رفتار چاہے کیسی بھی کم ہو
ہو سکتا ہے، اگلی ضرب، تمہاری فتح کی ہو
اکثر، منزل بہت قریب ہوتی ہے
جب یہ تھکن سے چور لڑکھڑاتے شخص کو دور دکھائی دیتی ہے

اکثر، منزل کے لیے کوشاں شخص تب ہار مان لیتا ہے
جب فتح کا کپ قریب قریب اس کی دسترس میں ہوتا ہے
اور اسے بہت دیر بعد پتہ چلتا ہے، جب تاریکی چھُپ جاتی ہے
کہ سنہری تاج بس ایک دو قدم کے فاصلے پر تھا

کامیابی، ناکامی ہی کا اُلٹا رُخ ہے
شکوک کے تاریک بادلوں میں، نقرئی امید کی جھلک
اور تُم کبھی یہ اندازہ بھی تو نہیں لگا سکتے کہ تُم کتنے قریب ہو
تب شاید تُم بالکل نزدیک ہی ہو، جب خود کو دُور سمجھ رہے ہو
اس لیے، چاہے شدید ترین ضرب بھی لگے، اپنی جنگ جاری رکھو
یعنی، کیسے بھی بدترین حالات ہوں، ہرگز ہار نہ مانو

(شاعر: نامعلوم)

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top