چلیں، اب خود کو بھی معاف کر دیں
امریکن ریڈ کراس کی بانی، کلارا بارٹن کو ایک روز اس کی دوست نے یاد دلایا کہ برسوں پہلے کسی نے اُس کے ساتھ بہت بُرا سلوک کیا تھا-
مگر کلارا نے یہ ردعمل دیا کہ اس نے کبھی ایسے واقعے کے بارے میں سنا تک نہیں۔
” کیا سچ مُچ، تمہیں یاد نہیں؟”
دوست نے پُوچھا۔
” نہیں یاد، پَر مجھے ٹھیک سے یہ یاد ہے کہ میں اسے بھول چکی ہوں۔”
کلارا نے جواب دیا۔
کسی کو معاف کر کے بھی اس سے انتقام کی خواہش رکھنا، ہمیں ماضی کی زنجیروں میں جکڑے رکھتا ہے۔ اصل معافی یہی ہے کہ دکھ دینے والے واقعے کو اپنی شناخت کا حصہ نہ بننے دیا جائے۔ اس طرح کم از کم ہم اس زخم کو مندمل کر کے اس کے تکلیف دہ ڈنک کو اپنی یادداشت سے باہر نکال کرخود کو ماضی کے درد سے باندھنے کی بجائے اس زخم سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔
جب تک ہم دوسرے شخص کو اس کی غلطی پر معاف نہیں کرتے، ہماری اس سے جنگ جاری رہتی ہے اور معاف کر کے اگر ہم اس شخص کی غلطی کو فراموش نہیں کر دیتے، ہماری خود سے جنگ جاری رہتی ہے۔
معاف کرنے سے معافی مانگنا بڑا عمل ہے اور معاف کر کے بھول جانا اس سے بھی بڑی بہادری ہے۔
🌹 Sharing is Caring 🌹