وہی جہاں ہے ترا جس کو تو کرے پیدا


ہر عمل کی شروعات ہمیشہ دماغ میں ایک چھوٹی سی سوچ یا ارادے سے ہوتی ہے۔ مشکل وقت میں اگر آپ اپنے دماغ پر قابو رکھیں تو یہ مشکل وقت سے نکلنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔
بڑے عزائم کے حصول کے لیے اپنی دماغی طاقت کو ایک جگہ مرکوز کرنا اگرچہ مشکل کام ہے لیکن یہی کام ہمیں کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ بیرونی حالات پر کنٹرول نہ ہونے کے باوجود، اپنے ردعمل اور سوچ پر کنٹرول ہمیں ناقابل شکست بنا دیتا ہے۔ انسان کا دماغ اس کی سب سے بڑی طاقت ہے اور یہ ایسے تصورات اور خواب دیکھ سکتا ہے جو پہاڑوں کو ہلا سکتے ہیں اور ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں۔

’’دماغ ہی حد ہے۔ جب تک دماغ یہ تصور کر سکتا ہے کہ آپ کچھ کر سکتے ہیں؛ آپ وہ کر سکتے ہیں۔ ‘‘ (آرنلڈ شیورازنگر)



کوریا کی جنگ میں شدید زخمی ہونے والا ایک امریکی فوجی کئی ہفتے ہسپتال میں مفلوج پڑا رہا۔ اپنی آنکھوں اور جبڑے کے سوا وہ بے چارہ جسم کے کسی حصے کو حرکت دینے کے قابل نہ رہا تھا۔
اسے ڈر تھا، اگر وہ ایسے ہی پڑا رہا تو اس کا دماغ جواب دے جائے گا۔ سَو، اس نے اپنے بستر کے اوپر ہی ایک بُک ریک بنوایا تا کہ وہ مطالعہ کر سکے۔

کچھ عرصے بعد اس کے ذہن میں ایک اور خیال آیا ۔
اُسے ٹائپنگ سیکھنے کا ہمیشہ سے شوق تھا اس لیے اُس نے درخواست کی کہ اس ریک میں ٹائپنگ ٹیکسٹ بُک رکھ دی جائے۔ اس نے تیزی سے ٹائپ رائٹر کی- بورڈ کو حفظ کر لیا اور پھر اپنے تخیل میں، اپنی انگلیوں سے اُن الفاظ کو ٹائپ کرتا جاتا جن کی مشق کتاب کے متعلقہ صفحے پر دی گئی ہوتی۔ جسم کو حرکت دینے سے معذور، بستر پر پڑے پڑے وہ بہادر سپاہی اپنے تخیل میں روز بیس، تیس منٹ پریکٹس کرتا۔

کئی ماہ تک، طویل فزیکل تھیراپی کے بعد، وہ مفلوج مریض بالآخر اپنے ہاتھ پاوں کو حرکت دینے میں کامیاب ہُوا۔

اپنی ٹائپنگ کی مہارت پرکھنے کے لیے اس بے تاب نوجوان نے سیدھا ہسپتال آفس کا رُخ کیا اور وہاں ٹائپ رائٹر استعمال کرنے کی اجازت چاہی۔

زندگی میں پہلی بار، اُس نے ٹائپ رائٹر میں کاغذ ڈالا اور اپنی انگلیاں ٹائپ رائٹر پر اسی ترتیب سے رکھ دیں جس طرح وہ اپنے تخیل میں روز مشق کیا کرتا تھا۔ اُس کی انگلیاں حرکت میں آ گئیں، اور اپنی پہلی ہی کوشش میں بغیر کوئی غلطی کیے اُس نے ایک منٹ میں پچپن الفاظ لِکھ ڈالے۔

وہی جہاں ہے ترا جس کو تو کرے پیدا
یہ سنگ و خشت نہیں جو تری نگاہ میں ہے

(شاعر: علامہ اقنال)

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top