مت سہل ہمیں جانو
دوسروں کو اپنے ہاتھ اور زبان کے شر سے محفوظ رکھنا نہایت سمجھداری بالغ نظری اور اعلی ظرفی کی علامت ہے۔ جس معاشرے میں فرد کی عزت نفس کا خیال رکھا جاتا ہے، وہاں محبت، اعتماد اور اپنائیت کے احساسات پروان چڑھتے ہیں۔ بھوکا شخص قابل رحم ہوتا ہے مگر اس سے پست تر حالت میں وہ شخص ہے جس کو عزت نفس سے محروم رکھا گیا ہو۔
وکٹر ہیوگو کے نزدیک محبت کا سب سے بڑا اظہار یہ ہے کہ دوسروں کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے۔ احترامِ آدمیت ایک ایسا جذبہ ہے جس پر تہذیب کی عمارت مستحکم بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے۔
مَیری نام کی ایک نئی تربیت یافتہ ٹیچر، ناواہو انڈین ریاست میں تدریسی خدمات کے لیے گئی۔ ہر روز وہ پانچ سٹوڈنٹس کو بلیک بورڈ کے پاس بلاتی اور انہیں ہوم ورک سے کوئی بھی آسان سا سوال حل کرنے کے لیے دیتی۔ وہ خاموشی سے وہاں کھڑے ہو جاتے لیکن کوئی بھی سوال حل کرنے کے لیے بالکل آمادہ نظر نہ آتے۔ مَیری اس بات کو سمجھ نہ پائی۔ اپنی تربیت کے دوران اس نے جو کچھ سیکھا، ادھر کام نہ آیا۔
اس سے قبل جب وہ فونیکس (شہر) میں بچوں کو پڑھا رہی تھی، تب ایسا کوئی معاملہ پیش نہ آیا تھا۔
” مجھ سے کیا غلطی ہو رہی ہے؟ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ میں ہر روز انہی پانچ کو بلاتی ہوں، جنہیں سوال حل کرنا نہیں آتا؟ ”
مَیری حیران تھی،
” نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا۔”
بالآخر اس نے سٹوڈنٹس سے پوچھ ہی لیا، مسئلہ کیا ہے۔ اور ان کے جواب میں، مَیری نے ان ننھے سٹوڈنٹس سے اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی بھی خودداری اور عزت نفس کے تقدس کا حیران کُن سبق سیکھا۔
یعنی وہ سٹوڈنٹس ایک دوسرے کی عزت نفس کا پاس رکھتے تھے اور جانتے تھے کہ ہر کسی میں وہ سوالات حل کرنے کی اہلیت نہیں ہے۔
اپنی عمر کے ابتدا ہی میں انہوں نے کلاس روم میں ”جیت – ہار” کی بے مقصد دوڑ کو یکسر ٹھکرا دیا تھا۔
انہیں یقین تھا، بلیک بورڈ پر کسی سٹوڈنٹ کو ہراساں اور ناکام دیکھنے میں کسی کی بھی جیت نہیں ہوتی۔
اس لیے انہوں نے سب کے سامنے ایک دوسرے کی عزت نفس مجروح کرنے والے ایسے کسی بھی مقابلے کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کیا۔
جب مَیری کو یہ بات سمجھ میں آ گئی تو اس نے اپنا طریقہ کار بدل دیا۔ اب اس نے ہر بچے سے انفرادی طور پر سوال چیک کرنا شروع کر دیئے بجائے کہ پوری کلاس کے سامنے اس کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچائے۔
وہ سب علم حاصل کرنے کے لیے تیار تھے_ مگر کسی کی عزت نفس کی قربانی دے کر نہیں۔
جس انسان کے اعزاز میں رب نے دنیا تخلیق کی، اس کی عزت نفس کو کچلنا تو گویا لعل و گوہر کو مٹھی بھر خاک کے مول بیچ ڈالنا ہے۔
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
(شاعر: میر تقی میر)
🌹 Sharing is Caring 🌹