وہ ہاتھ اب سرِ دستک پہنچ گیا ہو گا


کارل روجرز کے خیال میں؛ اچھی زندگی کوئی منزل نہیں بلکہ ایک عمل ہے۔ یہ ایک سمت ہے، کوئی مقام نہیں۔
اور جب یہ عمل انسانی ہمدری کا جذبہ اختیار کر جاتا ہے تو پھر معجزے ہی معجزے رونما ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک نرم جذبہ ہے مگر اتنا طاقتور کہ دل کی سخت ترین دیواروں کو بھی گرا دیتا ہے۔

ہمدردی خود غرضی کے قید خانے سے رہائی پا کر ہم آہنگی کی کائناتی محفل میں داخل ہونے کا دروازہ ہے۔
رومی کہتے ہیں؛
دوسروں کا درد اپناو تا کہ تم اپنے درد سے نجات حاصل کر سکو۔ ۔

تا کہ مجھ کو نہ میرے دکھ کی صدا ئیں آئیں
اب میں سنتا ہوں لگا تار کسی اور کا دکھ

(شاعر: ساجد رحیم)


یہ کہانی لیوس لاز اور اس کی اہلیہ کیتھرین لاز کی ہے۔ لیوس لاز 1921ء میں، امریکہ کی خوفناک سِنگ سِنگ جیل میں وارڈن مقرر کیا گیا۔ بیس برس بعد جب لیوس لاز نے ریٹائرمنٹ لی تو یہ جیل انسانی ہمدردی کا ایک روشن استعارہ بن چکی تھی۔

نقادوں کے نزدیک اس کا سہرا لیوس لاز کے سر جاتا تھا مگر اس نے عاجزی سے کہا،
یہ سب کیتھرین کی بدولت ممکن ہوا جو اس جیل کے قریب ہی دفن ہے۔

کیتھرین تب تین چھوٹے بچوں کی ماں تھی۔
سب نے اسے منع کیا کہ وہ جیل کی دیواروں کے اندر قدم رکھنے کی غلطی نہ کرے مگر وہ باز نہ آئی ۔
اس کا خیال تھا؛
” چونکہ میرا شوہر اور میں ان قیدیوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں، مجھے یقین ہے، قیدی بھی میرا خیال رکھیں گے۔ ”

کیتھرین نے ہر قیدی کے جرم کا ریکارڈ پڑھا۔ ہر ایک کی کہانی جانی اور قیدیوں کے لیے ایک درد مند مسیحا بن گئی۔

کہتے ہیں؛ ہمدردی وہ زبان ہے جو بہرے سن سکتے ہیں اور اندھے پڑھ سکتے ہیں۔
اس نے ایک نابینا قیدی کا ہاتھ تھاما اور انتہائی صبر و تحمل سے اسے بریل سے پڑھنا سکھایا۔ برسوں بعد تک، وہ قیدی کیتھرین کی اس محبت و شفقت پر اس کے لیے احسان مندی کے آنسو بہاتا رہا۔
اس درد مند مسیحا نے سماعت سے محروم ایک قیدی کے لیے اشاروں کی زبان سیکھنے کے لیے خود ایک سکول میں داخلہ لیا اور پھر اسے سکھائی۔
کئی برس تک وہ ان قیدیوں کی زندگی میں امید کی شمع جلاتی رہی۔ ان کے درد بانٹتی رہی۔ ان کے لیے حوصلہ بنی رہی۔
یقینا کیتھرین جب بھی ان کے پاس آتی ہو گی، اس کے آنے سے پہلے ہی اس کے بے لوث خلوص اور انسانی ہمدردی کی مہک قید خانے کی دہلیز تک آ جاتی ہو گی جس کے معجزاتی اثر سے قیدیوں کی بیمار اور شرمسار روحیں اصلاح کی امید میں جی اٹھتی ہوں گی۔

مہک سی آئی ہے دہلیز سے تمنا کی
وہ ہاتھ اب سرِ دستک پہنچ گیا ہو گا

(شاعر: اختر عثمان)



لیکن پھِر ایک المناک کار حادثے میں کیتھرین کی موت ہو گئی۔اس کی میت قید خانے سے کوئی پون میل کے فاصلے پر اس کے گھر میں رکھی تھی لیکن جیل کی ساری فضا غمگین اور سوگوار تھی۔ لیوس لاز ڈیوٹی پر نہیں آیا اور نائب وارڈن نے اس کی جگہ ڈیوٹی دی۔ معمول کی چہل قدمی کے دوران نائب وارڈن نے دیکھا، مین گیٹ پر قیدیوں کا ہجوم بے بسی اور غم کی تصویر بنے کھڑا تھا۔
یہ سخت دل قیدیوں کی کیتھرین کے لیے اپنی گہری عقیدت کا ثبوت تھا۔ اس نے ان پر رحم کی نگاہ کی اورایک تاریخی فیصلہ کیا،
” چلو ٹھیک ہے، تم سب آخری رسومات پر جا سکتے ہو، مگر وعدہ کرو کہ رات ہونے تک واپس آ جاو گے۔”

اور پھر ایک معجزہ ہوا۔
بغیر کسی نگران کے، قیدیوں کا وہ پُرامن جلوس پیدل چلتا ہوا کیتھرین کی آخری رسومات میں شامل ہوا اور دل کی گہرائیوں سے اپنے مسیحا کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس کے بعد ہر قیدی واپس جیل میں آ گیا۔ کسی نے بد نظمی نہیں کی۔ کوئی ایک فرار نہ ہوا ۔ ہر ایک واپس آ گیا۔ ہر ایک۔

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top