یہ محبت نہیں، روحوں کا دائمی تعلق ہے۔


ماں کی عظمت ایک ایسا آفاقی تصور ہے جس کی مثال دنیا کی ہر تہذیب میں ملتی ہے۔ اس بے لوث محبت میں بدلے کی توقع یا کسی قسم کی کوئی شرط شامل نہیں ہوتی۔
اگر محبت میں دوسرا پہلے آتا ہے تو وہ ماں کی ہی محبت ہے۔وہ اپنی انا کو مرکزیت سے ہٹا دیتی ہے اور اس کے ہر فیصلے میں مرکزی حیثیت ’میں‘ کی بچائے ’میری اولاد‘ بن جاتی ہے۔ وہ اولاد کے لیے اپنا وقت، نیند ، خواہشوں اور خوشیوں کی قربانی دے کر بھی خوش رہتی ہے۔
دراصل گھر بنتا ہی تب ہے جب گھر میں ماں موجود ہو۔



ایک لڑکے نے اپنے سکول میں ہونے والی اساتذہ اور والدین کی پہلی کانفرنس میں اپنی ماں کو شرکت کی دعوت دی۔ اس کی اداسی کی انتہا نہ رہی جب ماں نے وہاں جانے کی ہامی بھر لی۔ اس کی ماں اس کی کلاس کے ساتھیوں اور ٹیچر کے سامنے پہلی مرتبہ آنے والی تھی۔ وہ ماں کی ظاہری شکل و صورت سے سخت نادم تھا۔ وہ خوب صورت تو تھی مگر اس کے چہرے کے تقریبًا پورے دائیں حصے پر ایک گہرا زخم کا نشان تھا۔

لڑکے نے کبھی یہ جاننے میں دلچسپی نہ لی کہ ماں کے چہرے پر زخم کا وہ نشان کب اور کیسے بنا تھا۔

کانفرنس میں، اس کی ماں کے چہرے پرزخم کے نشان کی بجائے لوگوں کی بھرپور توجہ اس کی مہربان شخصیت اور قدرتی حُسن پر رہی مگر وہ لڑکا ابھی تک شرمسار تھا اور خود کو دوسروں سے چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔ تاہم ٹیچر اور ماں کے درمیان ہونے والی گفتگو اچانک اس کے کان میں پڑی اور اسے اپنی ٹیچر کا یہ جملہ سنائی دیا،
” آپ کے چہرے پر زخم کا نشان کیسے بنا؟”
ماں نے جواب دیا،
” یہ تب کی بات ہے، جب میرا بیٹا ابھی چلنے پھرنے کے قابل نہ تھا۔ وہ جس کمرے میں تھا، وہاں اچانک آگ لگ گئی۔ کوئی بھی اندر جانے کی جرأت نہ کر سکا کیونکہ آگ قابو سے باہر تھی۔
میں فورًا اندر بھاگی۔ جب میں اس کے جھولے کی طرف آگے بڑھ رہی تھی تو آگ میں دہکتا ایک شہتیر نیچے آتے دیکھا ۔ میں تیزی سے بچے کی ڈھال بن کر اس کے اور شہتیر کے درمیان آ گئی۔ ضرب لگتے ہی میں بے ہوش ہو گئی مگر خوش قسمتی سے اسی لمحے ایک فائرمین وہاں پہنچ گیا اور ہم دونوں کو بچا لیا۔”
ماں نے اپنے چہرے کے جھلسے ہوئے رُخ کو چھوا اور بولی،
زخم کا نشان تو ہمیشہ رہے گا لیکن مجھے آج تک اپنے اس فعل پر” کبھی کوئی پچھتاوا نہیں ہُوا۔”

وہ لڑکا آنکھوں میں آنسو لیے اسی لمحے ماں کی طرف لپکا اور معافی مانگی۔



ماں کی محبت ایسا لافانی جذبہ ہے جو ماں کے جانے کے بعد بھی انسان کے ساتھ رہتا ہے۔ اسے ہر مشکل میں ’دعا‘ کی صورت اپنی ماں کی موجودگی کا احساس رہتا ہے۔

گھبرا کے اگر دل میں بھی کہہ دیتا ہوں ، ’ماں جی!‘
فورا کسی جانب سے جواب آتا ہے، ’ ’ہاں جی!‘

(شاعر: عمیر نجمی)



سائنس کہتی ہے، بچے کے کچھ خلیے ہمیشہ ماں کے جسم میں رہ جاتے ہیں۔ جسے مائیکروکائیمیرزم کہتے ہیں۔ یعنی ماں صرف بچے کو جنم نہیں دیتی بلکہ بچہ ماں کے وجود کے اندر ایک ایسا گھر بنا لیتا ہے جو آخری سانس تک نہیں ٹوٹتا۔

یہ محبت نہیں، روحوں کا دائمی اتصال ہے۔

جب یہ بولا کہ میں بہت خوش ہوں
ماں کی تربت پہ پھول کھلنے لگے

(شاعر: عمران اختر سانول )

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top