ورنہ ہر ذہن میں کچھ تاج محل ہوتے ہیں
فطری طور پر انسان ایک سماجی مخلوق ہے۔ ایک دوسرے سے وابستہ مفادات اور جذبات کا خیال رکھ کر انسان اپنے سماج کو اخلاقی طور پر پائیدار بناتا ہے۔ دوسروں کی مدد کرنا نہ صرف انسان کی اپنی ذات کو تسکین دیتا ہے بلکہ سماج میں خیر و برکت کا باعث بنتا ہے اور اجتماعی بقا کو مستحکم کرتا ہے۔ مجموعی تنہائی کے مرض سے نجات ملتی ہے اور پورے سماج میں ایک وحدت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
بقول ایس۔ ایل ایلڈر؛
’’دنیا کے اہم ترین کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ آپ لوگوں کو بتائیں، وہ اکیلے نہیں ہیں۔
اس طرح بظاہر آپ دوسروں کی مدد کرتے ہیں لیکن اصل میں آپ اپنی مدد کر رہے ہوتے ہیں۔
کئی برس قبل، طوفانی رات میں، بزرگ میاں بیوی ایک ہوٹل کے اندر داخل ہوئے اور کرائے پر ایک کمرہ لینا چاہا تو کلرک نے افسوس کا اظہار کیا؛
”معاف کیجئے گا، کچھ بزنس میٹنگز کی وجہ سے سارے کمرے بُک ہیں۔”
کچھ دیر خاموشی رہی۔
پھر جب کلرک نے بزرگ میاں بیوی کے چہرے پر مایوسی کے آثار دیکھے تو بولا،
’’ایسے طوفانی موسم میں، آپ جیسے خوبصورت جوڑے کو واپس بھیجنے کا میرا دِل نہیں چاہ رہا۔ اچھا یہ بتائیں، کیا آپ میرے کمرے میں ٹھہرنا پسند کریں گے؟‘‘
وہ جوڑا اس طرح اُس کلرک کو تکلیف دینے پر آمادہ نہیں تھا مگر کچھ دیر گفتگو کے بعد کلرک نے انہیں راضی کر لیا۔
اگلے روز، آدمی نے بِل ادا کیا اور ہوٹل چھوڑتے وقت کلرک سے کہا،
” تُم ایک کمیاب ہیرے ہو اور ہر ہوٹل کے مالک کا خواب ہوتا ہے، اس کے پاس ایسے ملازم ہوں؛ شاید کسی روز میں صرف تمہاری وجہ سے ایک بڑا سا ہوٹل بنواوں گا۔ ‘‘
کلرک کو خوش گوار حیرت ہوئی مگر یہ خیال ایسا افسانوی تھا کہ وہ بوڑھے کی اس بات پر ہلکا سا مسکرا دیا۔
چند سال بعد، کلرک کو اسی بوڑھے کا خط موصول ہُوا ۔
بوڑھے نے خط میں اس طوفانی رات میں کلرک کی مہربانی اور میزبانی کا تذکرہ کیا تھا۔ اُس نے کلرک کو نیویارک آنے کی دعوت دی۔ بوڑھے نے خط میں نیویارک کے لیے ٹکٹ بھی بھیج رکھا تھا۔
کچھ دِن بعد نیویارک پہنچنے پر ففتھ ایونیو کے کارنر میں، کلرک کی اپنے اس بوڑھے دوست سے ملاقات ہوئی جہاں ایک شاندار نئی عمارت تعمیر کی گئی تھی۔
بوڑھے نے اس عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،
’’ میں نے یہ ہوٹل اس لیے تعمیر کیا ہے کہ تُم جیسا مہربان انسان اسے چلائے۔ یاد رہے، کچھ سال پہلے میں نے تمہیں ایسا کہا تھا، اور آج دیکھ لو، میں واقعی سنجیدہ تھا۔”
کلرک حیرت سے بولا، ” جناب، آپ مذاق کر رہے ہیں ناں۔ کیا اس میں کوئی چال ہے؟ میں ہی کیوں؟ ویسے، آپ ہیں کون؟”
” میرا نام ولیم والڈورف ایسٹور ہے اور میری کوئی پوشیدہ چال نہیں، بَس مجھے تمہارے جیسے ہیرے کی ضرورت ہے۔
اس عظیم الشان ہوٹل کا نام والڈورف ایسٹوریا تھا اور وہ کلرک جارج سی – بولٹ تھا۔ جس نے اپنی محنت اور لگن سے ہوٹلنگ کے شعبے میں خوب نام کمایا۔
جارج سی بولٹ جرمنی میں پیدا ہوا اور تقریبا تیرہ برس کی عمر میں امریکا چلا گیا۔ اس کی زندگی عزم و ہمت کی عملی داستان ہے۔ اس نے ابتدائی طور پر ایک بس بوائے اور ڈش واشر کے طور پر کام کیا۔
وہ والڈورف ایسٹوریا ہوٹل کا پہلا جنرل مینجر تھا۔ اس نے جدید ہوٹل مینجمنٹ کے اصول متعارف کروائے۔ امریکی سماج کے معاشی منظرنامے پر اس کی شخصیت کا گہرا اثر ہے۔ بولٹ نے ہوٹل میں ’مہمان نوازی‘ کے تصور کو مرکزی حیثیت دی۔
وہ اپنی شریک حیات سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔ 1900 میں اس نے اپیی اہلیہ لوئیس بولٹ کے لیے نیویارک کے تھاوزنڈ آئی لینڈز میں ایک شاندار محل تعمیرکروانا شروع کیا۔ اس کا نام ’بولٹ کاسل‘ رکھا گیا۔
بد قسمتی سے قلعہ مکمل ہونے سے چند ماہ قبل لوئیس کا انتقال ہو گیا۔ جارج بولٹ نے فوری طور پر تعمیر بند کروا دی اور پھر اس جزیرے پر قدم نہیں رکھا۔ اس نے ہدایت کی، اب قلعہ کبھی نہ مکمل کیا جائے۔
یہ الگ بات کہ تعمیر نہ ہونے پائیں
ورنہ ہر ذہن میں کچھ تاج محل ہوتے ہیں
(شاعر: فارغ بخاری)
قلعہ کافی عرصہ تک ویران رہا مگر بعد میں اسے تاریخی اور سیاحتی مقام کے لیے دوبارہ زندہ کیا گیا۔
بولٹ کی پرعزم زندگی ظاہر کرتی ہے؛ کامیابی فقط دولت اور شان و شوکت کے حصول کا نام ہی نہیں بلکہ انسان کی اپنی منفرد کہانی بھی ہے، جس میں وہ ٹوٹتا، بنتا، بکھرتا اور دوبارہ یکجا ہوتا ہے اور اس دوران اپنوں اور بیگانوں کے ساتھ اس کے پرخلوص عملی جذبات ہی اس کی عظمت کو دوام بخشتے ہیں۔
’’لوگوں کے کام آو، اس لیے نہیں کہ وہ کون ہیں یا اس کے بدلے میں وہ آپ کو کیا دیں گے، بلکہ اس لیے کہ آپ کون ہیں۔‘‘
(ایچ۔ ایس۔ کشنر)
🌹 Sharing is Caring 🌹