اگر میں نہ کروں تو پھر اس سے محبت کون کرے گا؟


ایک بچی کو اس کی دادی نے ایک خوبصورت سنہری بالوں والی گڑیا کا تحفہ دیا۔
وہ بچی اتنی خوبصورت گڑیا دیکھ کر خوشی سے اچھل پڑی اور دادی کا شکریہ ادا کیا۔ پھر سارا دن اسی گڑیا سے کھیلتی رہی۔ لیکن دن کے آخر میں اس نے سنہری بالوں والی گڑیا ایک طرف رکھ دی اور اپنی پرانی گڑیا کو ڈھونڈ نکالا۔
اس نے پھٹی پرانی گڑیا کو اپنی بانہوں میں لیا۔ اس گڑیا کے بال جھڑ چکے تھے، ناک ٹوٹی ہوئی تھی، ایک آنکھ غائب تھی اور ایک بازو اور ایک ٹانگ بھی نہیں تھی۔

دادی مسکرا کر بولیں،
’لگتا ہے، تمہیں یہی گڑیا سب سے زیادہ پسند ہے۔‘

بچی نے معصومیت سے جواب دیا،
’ دادی، مجھے آپ کی دی ہوئی خوبصورت گڑیا بہت پسند آئی۔ لیکن میں اس پرانی گڑیا سے سب سے زیادہ محبت کرتی ہوں، کیونکہ اگر میں اس سے محبت نہ کروں، تو پھر کوئی بھی نہیں کرے گا۔‘



محبت تقدس کا رخ تب اختیار کرتی ہے جب ہم یکطرفہ محبت کا ’بوجھ‘ اٹھانے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں محبت فقط جذبہ نہیں رہتی بلکہ ایک طاقت بن جاتی ہے جو کسی لاوارث کو وارث بنا دیتی ہے۔ اور ایسی محبت کرنے والا شخص، اس مسیحا کا روپ اختیار کر لیتا ہے جس کی ضرورت ہر بیمار معاشرے کو ہوتی ہے۔ کسی بے سہارا، کسی مسترد، کسی بے وقعت سے محبت ہی کمالِ بندگی ہے۔ یہی وہ محبت ہے جو اس خالی جگہ کو پُر کرنے کی کوشش کرتی ہے جسے دنیا نے چھوڑ دیا ہے۔


محبت کوئی سودا بازی نہیں جو محب یا محبوب کا منصب دیکھ کر کی جائے۔ بلکہ۔۔

میدان وفا دربار نہیں، یاں نام و نسب کی پوچھ کہاں
عاشق تو کسی کا نام نہیں، کچھ عشق کسی کی ذات نہیں

(فیض احمد فیض)



زمین پر گرے ہوئے وہ لوگ، جن کے کپڑے پرانے، جوتے گھسے ہوئے، چہرے تھکے ہوئے، اور آنکھوں کے گرد گہرے سیاہ حلقوں میں جھریالے خوابوں کے بدنما داغ ہیں، ان سے محبت کرنا ہر دل کے بس کی بات نہیں۔

ایسے افتادگان خاک، جن سے انسان ہونے کا منصب بھی چھین لیا گیا ہو، ان کی طرف خود چل کے جانا، ان کے کمزورہاتھ کو تھام کر، بے غرض محبت سے ان کے کھوئے ہوئے منصب پر فائز کرنے کی ہمت کرنا ہی زمین پر انسانیت کا بھرم قائم رکھنا ہے۔

دنیا کی نظر ہمیشہ چمکدار چہروں اور کامیاب داستانوں پر ہوتی ہے۔ ہم ایسی چیزوں کی طرف ہی راغب ہوتے ہیں جو بِظاہر خوبصورت ہوں یا ہماری ذات کے لیے فائدہ مند ہوں۔ ایسی محبت فقط سماجی کنٹریکٹ اور لین دین پر مبنی ہوتی ہے۔ جب ہم خود کو اس تجارتی نظامِ محبت سے آزاد کرتے ہیں تو ہم اپنی روح کو آزاد کرتے ہیں۔

جس محبت کی تعمیر اس جذبے سے اٹھائی گئی ہو،
’ اگر میں اس سے محبت نہ کروں، تو پھر کوئی بھی نہیں کرے گا۔‘
۔۔۔۔ تو محبت اپنے خالص ترین روپ میں ڈھل جاتی ہے۔
یہ ایک ایسی نیکی ہے جو کسی اجر کی محتاج نہیں کیونکہ اس کا اجر عمل کی پاکیزگی میں ہی پنہاں ہے۔
یہی وہ جذبہ ہے جسے دوسروں میں تقسیم کر کے انسان کی اپنی ذات کے اندر درویشی اور بے نیازی کا چراغ جل اٹھتا ہے۔


محبت وہ شے ہے
اگر دوسروں میں تقسیم بھی کر دیں
تو، آپ کے پاس پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جائے گی
محبت جادو کا ایک ایسا سِکّہ ہے
جسے ہتھیلی پر رکھ کر مٹھی بند کر لیں
تو یہ غائب ہو جائے گا۔
یہ سِکّہ دوسروں کو بخش دیں، خرچ کر دیں؛
تو آپ معجزہ دیکھیں گے
کہ، آپ کے سامنے، فرش پر کئی سِکّے
گردش کر رہے ہیں۔

( بچوں کا گیت)

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top