اک زندگی عمل کے لیے بھی نصیب ہو


پوچھا گیا، پانچ مینڈک ایک موٹی لکڑی پر بیٹھے تھے۔ چار نے چھلانگ لگانے کا فیصلہ کیا۔ اب کتنے بچے؟
جواب ملا؛ پانچ
پھر سوال ہوا؛ کیوں؟
کیونکہ ’فیصلہ کرنے‘ اور ’عمل کرنے‘ میں فرق ہوتا ہے۔


نیت کسی بھی کام کے لیے بہت اہم ہے لیکن صرف نیت کر لینے سے حقیقت نہیں بدلتی۔ ایک اچھے ارادے کو جب تک عملی جامہ نہ پہنایا جائے، وہ بے نتیجہ رہتا ہے۔ ہم اکثر اپنی زندگی بدلنے کے لیے ’فیصلے‘ تو کر لیتے ہیں، مگر ان فیصلوں پر عملدرآمد نہیں کرتے۔

فیصلہ صرف ایک دماغی عمل ہے اور اسے تکمیل میں لانے کے لیے جسمانی اور ذہنی توانائی کو یکجا کرنا پڑتا ہے۔ جنم دن، سالگرہ اور ایسے ہی جذباتی لمحات میں ہم اکثر بڑے بڑے منصوبے تو بنا لیتے ہیں لیکن انہیں عملی طور پر آغاز کرنے کی ہمت نہیں کرتے۔

ایسے ہی مینڈکوں کا لکڑی پر بیٹھنا ان کی موجود حالت یا عادت ہو سکتی ہے۔ اس عادت کو توڑنے کے لیے صرف فیصلہ کافی نہیں، بلکہ ایک مضبوط تحریک اور خود پر قابو ضروری ہے۔

سوچ کو فیصلے اور فیصلے کو عمل میں بدل کر ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ فیصلہ کرنے والے دنیا میں بے شمارلوگ ہیں مگر عمل کرنے والے ہمیشہ قلیل تعداد میں ہوتے ہیں۔

عمل کے بغیر فیصلہ ایک خواہش بن کے رہ جاتا ہے۔ اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ یہی خواہشیں حسرتوں میں بدل جاتی ہیں جو دلِ داغ داغ کو مزید داغ دار کرتی جاتی ہیں۔
عمل خوشی کی ضمانت تو نہیں مگر اس کے بغیر خوشی بھی ممکن نہیں۔

شاعر نے بجا کہا تھا؛

اک زندگی عمل کے لیے بھی نصیب ہو
یہ زندگی تو نیک ارادوں میں کٹ گئی

(شاعر: خلیل قدوائی)

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top