گائے کی کتنی ٹانگیں ہوتی ہیں؟


غیر متنازع حقائق پر فضول بحث سے تنگ آ کر ابراہم لِنکن نے اپنا نقطۂ نظر سمجھانے کے لیے اپنے مخالف سے ایک سوال کیا،
” گائے کی کتنی ٹانگیں ہوتی ہیں؟”

” یقینا ، چار”
مخالف نے بے اعتنائی سے جواب دیا۔

” بلاشبہ، ایسا ہی ہے۔ ”
لِنکن نے اثبات میں سر ہلایا،
” اچھا، اب فرض کریں، اگر آپ گائے کی دُم کو بھی اس کی ٹانگ کہہ دیں تو پھر ایک گائے کی کتنی ٹانگیں ہوئیں؟”

” ارے جناب، سیدھی سی بات ہے، پانچ ”
دوسرے شخص نے جواب دیا۔

لِنکن نے کہا،
” یہاں میں آپ سے اختلاف کرنے کی جسارت کروں گا کیونکہ گائے کی دُم کو ٹانگ کہنے سے یہ ٹانگ نہیں بن جاتی” ۔



ابراہم لنکن نے ہلکے پھلکے انداز میں بہت زبردست دلیل دی ہے؛ کسی چیز کو کوئی اور نام دے دینے سے اس چیز کی حقیقت یا تشخص بدل نہیں جاتا۔ یہ فقط حقیقت سے گریز کی ایک فضول کوشش ہے۔ آئن رینڈ کے خیال میں، ہم حقیقت کو نظر انداز کر سکتے ہیں لیکن حقیقت کو نظر انداز کرنے کے نتائج کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔
صرف نام تبدیل کرنے پر حقائق نہیں بدل سکتے۔ مخالف کا فورا ’پانچ‘ کہہ دینا ، یہ ظاہر کرتا ہے، وہ خود الفاظ کے جال میں پھنس گیا ہے اور لنکن کے دم کو دیئے گئے نئے نام ’ٹانگ‘ کو حقیقت کے طور پر قبول کر لیا۔

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top