خوب صورتی باقی رہ جاتی ہے۔
جرمن شاعر اور نثر نگار رائنر ماریا رلکے کے بقول؛ فن پارے لامحدود تنہائی سے جنم لیتے ہیں۔۔۔ اور فن کار کو ان کے لیے خود کو پوری طرح وقف کرنا پڑتا ہے۔
فرانس کا عظیم مصور اور مجسمہ ساز آنری مَیٹسِ عمر میں اپنے ہم عصر مصور آگُسٹ رَنوا سے 28 برس چھوٹا تھا۔ یہ دونوں عظیم فنکار ایک دوسرے کے بہترین اور بے تکلف دوست تھے۔ عمر کی آخری دہائی میں جب بیماری کی وجہ سے رَنوا کی زندگی گھر تک محدود ہو کر رہ گئی تو اُس کا دوست مَیٹسِ روز اُس سے مِلنے آتا۔ انتہائی علالت کے باوجود، جوڑوں کے ورم کے باعث حرکت کرنے سے معذور رَنوا پینٹنگز بنانے میں لگا رہتا۔ ایک روز جب مَیٹسِ نے دردناک اذیت میں مبتلا اس عظیم فن کار کو اپنے سٹوڈیو میں کام کرتے دیکھا تو وہ بے ساختہ بولا،
”آگُسٹ، اتنی اذیت میں بھی کیوں پینٹنگز بنانے کی مشقت میں لگے رہتے ہیں آپ؟ ”
رَنوا نے سادگی سے جواب دیا؛
”کیوں کہ، خوب صورتی باقی رہ جاتی ہے، اور درد رخصت ہو جاتا ہے۔”
اس طرح وہ عظیم فن کار موت کی خاموش تصویر بننے تک اپنی لافانی تصاویر میں خوب صورتی چھوڑ کر رخصت ہُوا۔
وقت کے ساتھ درد اپنی شدت کھو دیتا ہے۔ ہمارے ذہن اورجسم زخم کو بھرنے کے لیے خود کار میکانزم استعمال کرتے ہیں۔ ہم درد سے گزر کر ہی اندرونی طاقت اور نئی بصیرت حاصل کرتے ہیں۔ ایک مفکر کے خیال میں؛ دانائی شفا پائے ہوئے درد کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ شفا کے بعد جو کچھ باقی رہتا ہے وہ جسم کی اندرونی خوبصورتی ہوتی ہے۔ زخم کا نشان اس بات کی گواہی ہے کہ زخم خوردہ شخص نے بقا کی ہر ممکن کوشش کی۔ درد ایک عارضی استاد ہے اور خوبصورتی ایک دائمی میراث۔ انسان درد کی سرحدوں کو پھلانگ کر خود سے ایک بار پھر ملتا ہے۔ اور ڈکنز کے نزدیک، جدا ہونے کا درد دوبارہ ملنے کی خوشی کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔
پکاسو نے برملا کہا تھا، فن روح سے روزمرہ کی زندگی کی گرد دھو ڈالتا ہے۔ درد کو شکست دے کر فن کی گود میں پناہ لینے والا انسان فنا ہو کر بھی بقا کی خوبصورتی کو پا لیتا ہے۔ یہی وہ خوبصورتی ہے، جو باقی رہ جاتی ہے اور اپنے ساتھ اپنے فنکار کو بھی امر کر دیتی ہے۔
🌹 Sharing is Caring 🌹