جو ٹھہرے ذرا، کُچل گئے ہیں
انسان کی زندگی ایک مسلسل دوڑ ہے۔ وہ ہر ممکنہ تکلیف سے بچاو اور ہر من پسند لذت کے حصول کے لیے مسلسل حرکت میں رہتا ہے۔
کامیابی کی خواہش اور محرومی کا خوف، ایسی قوتیں ہیں جو اسے ہمہ وقت جدوجہد کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ یہ چیلنجز ہر زندہ چیز کو چوکس رکھتے ہیں۔ زندگی میں ٹھہراو تبھی آتا ہے، جب ہم خوف اور خواہش کی تسکین کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جدید معاشی نظام میں بھی ہر فرد کو اپنے مقام پر قائم رہنے کے لیے دوسروں سے تیز بھاگنا پڑتا ہے۔ اپنے آج کو گزشتہ کل سے اور آئندہ کل کو آج سے بہتر بنانا پڑتا ہے۔
امریکی سٹِیل مِلز کے عظیم بزنس مین چارلس ایم – شواب نے اینڈریو کارنیگی کی ماتحتی میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ اس نے زندگی میں جو بھی سیکھا اُس پر وہ اینڈریو کا بہت زیادہ احسان مند تھا۔ اس کے خیال میں اس کی کامیابی کی اصل وجہ وہی تھا۔ شواب اور اس کے ساتھی اپنے کام میں بہت زیادہ مہارت رکھتے تھے۔
ایک روز، وہ بڑے فخر سے کارنیگی کے پاس گیا اور بولا۔
” کل، ہم نے سابقہ سارے ریکارڈز توڑ دیئے”
یہ سُن کر کارنیگی نے شواب سے ایک سوال کیا، جس نے اسے یکسر خاموش اور لاجواب کر دیا۔
اینڈریو نے پوچھا،
” یہ تو کل کا کارنامہ ہے، مگر یہ بتاو‘ آپ نے آج کیا کِیا ہے؟ ”
اس بات کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ زندگی کی بھاگ دوڑ میں انسان خود کو محض ایک مشین بنا لے۔
چاہے خواہش کامیابی کی ہو یا ناکامی کا خوف ہو، اعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوٹے تو انسان ایک لاحاصل جنون میں مبتلا ہو کر ذہنی اضطراب اور تھکان کا شکار ہو جاتا ہے۔
مگر دوڑ دھوپ بہرحال ضروری ہے۔ اپنی ہستی کی بقا کے لیے۔
اگر زمانے میں تغیر کو ہی ثبات ہے، اگر چلنے والے آگے نکل جاتے ہیں اور ٹھہرنے والے کچل جاتے ہیں، اور اگر حرکت میں برکت ہے تو پھر ہماری بقا روزانہ کی تگ و دو میں ہے۔
اگر ہم اس معیار پر پورے نہیں اترتے تو ہمارے لیے یہی نوحہ باقی بچتا ہے۔
شوکت ہمارے ساتھ بڑا حادثہ ہوا
ہم رہ گئے، ہمارا زمانہ گزر گیا
(شاعر: شوکت واسطی)
اس سے پہلے کہ زمانہ آپ کو سویا ہوا پا کر آپ کو روندتا آگے گزرتا جائے۔ ہر صبح پورے ہوش و حواس اور عزم ہمت کے ساتھ بیدار ہوں کیونکہ صبح اٹھنا بے معنی بن جاتا ہے اگر آپ کی جاگتی آنکھوں میں بھی سستی کی نیند بھری ہوئی ہے۔
ایک قدیم افریقی کہاوت ہے؛
ہر صبح جب ایک ہرن جاگتا ہے تو وہ جانتا ہے، اسے سب سے تیز شیر سے بھی سے زیادہ تیز بھاگنا ہے، ورنہ وہ کسی دن اس کا نوالہ بن جائے گا۔
اور ہر صبح جب ایک شیر جاگتا ہے تو وہ جانتا ہے، اسے سب سے سست ہرن سے بھی تیز بھاگنا ہے، ورنہ وہ بھوکا مر جائے گا۔
چاہے آپ ہرن ہیں یا شیر؛ سلامتی چاہیے تو صبح بیدار ہونے کے بعد فورا “جاگ” جائیں اور زندگی کے لیے بھاگ دوڑ شروع کر دیں
جُنبش سے ہے زندگی جہاں کی
یہ رسم قدیم ہے یہاں کی
ہے دوڑتا اشہبِ زمانہ
کھا کھا کے طلب کا تازیانہ
اس رہ میں مقام بے محل ہے
پوشیدہ قرار میں اجل ہے
چلنے والے نِکل گئے ہیں
جو ٹھہرے ذرا، کُچل گئے ہیں
(شاعر: علامہ اقبال)
🌹 Sharing is Caring 🌹