مشقت کی ذلت جنہوں نے اٹھائی
رومی فرماتے ہیں: جو چیز تمہیں تکلیف دیتی ہے، وہی تمہیں نکھار دیتی ہے، تاریکی ہی تمہارے لیے چراغ بنتی ہے۔
غربت، رکاوٹیں اور مشکلات کامیاب لوگوں کے راستے میں ضرور آتی ہیں مگر وہ اپنی قوت ارادی سے انہیں شکست دے کر دنیا میں اپنا مقام پیدا کرتے ہیں۔ انسان کے اندر ثابت قدمی، محنت، وقت کی قدر اور اپنے مقصد کے حصول کے لیے آہنی عزم موجود ہو تو راستے کی ہر رکاوٹ ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے۔
نفسیات کے مطابق، اگر انسان حوصلہ بلند رکھے تو مشکل حالات میں اپنے بچاوکی کوشش کرتے کرتے وہ اپنے دکھ سے کوئی مقصد پیدا کر لیتا ہے۔ وہ سروائیول موڈ سے مِیننگ موڈ میں چلا جاتا ہے۔ اسی لیے تو رومی دعوی کرتے ہیں، ’زخم وہ جگہ ہے جہاں روشنی داخل ہوتی ہے۔‘
ہمہ جہت صلاحیتوں کے مالک لیونارڈو ڈاونچی نے بھی صدیوں قبل یہ راز پا لیا تھا کہ ’دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے۔‘
اس جینیئس کا قول ہے؛
’ اے خدا، تُو سبھی قیمتی چیزیں ہم سے بھاری مشقت کے دام لے کر ہی ہمیں عطا کرتا ہے۔ محنت ہی وہ بیج ہے جس سے ہم اپنی خواہش کی ساری چیزیں اگا سکتے ہیں۔ جو شخص محنت سے جی چُراتا ہے، بہتر یہی ہے وہ خود کو مفلسی کا حقدار سمجھے۔
ڈاونچی نے اپنی لازوال پینٹنگ ’دی لاسٹ سَپر‘ تخلیق کرنے میں ایسا ڈوب کر کام کیا کہ وہ اکثر اوقات کھانے پینے کی ہوش سے بھی بے گانہ رہتا۔
یوہانس کیپلر جدید فلکیات کا بانی ہے۔ اس نے ثابت کیا، سیارے گول نہیں بلکہ بیضوی مدار میں سورج کے گرد گھومتے ہیں۔ اس کی تحقیق نے نیوٹن کے کشش ثقل کی دریافت کی بنیاد بنی۔ اس کی ابتدائی زندگی بے شمار پریشانیوں کا شکار تھی۔ روزگار کے لیے اسے علم نجوم کے ذریعے فال نکالنے کا کام کرنا پڑا۔ اس نے ہر اس مشقت بھرے کام کو قبول کیا جس سے اس کی گزر بسر ہو سکتی تھی۔
کارل لینیاس کو فادر آف ماڈرن ٹیکسانومی کہا جاتا ہے۔ اس نے جانوروں اور پودوں کے نام دینے اور انہیں درجوں میں تقسیم کرنے کا ایک سائنسی نظام متعارف کرایا۔ لفظ ہومو سیپیئنز بھی اسی نے دیا۔ ایسے عظیِم سائنسدان کی زندگی نے بھی اسے بارہا آزمایا۔ وہ تنگ دستی کے بھاری بوجھ تلے دبا رہا۔ دوران طالب علمی اس کے جوتوں کی حالت ایسی تھی کہ وہ کاغذ موڑ موڑ کر اپنے پھٹے جوتوں میں رکھ کر انہیں پہننے کے قابل بناتا۔ اسے اکثر دوستوں سے کھانا مانگنا پڑتا تھا۔
ہمفری ڈیوڈ نے الیکٹروکیمیکل عمل کے ذریعے کیمیائی مرکبات کو توڑ کر کئی نئے عناصر دریافت کیے۔ جن میں سوڈیم، پوٹاشیم، کیلیشیم، اور میگنیشیم شامل ہیں۔ کانوں کے مزدوروں کے لیے ڈیوی سیفٹی لیمپ ایجاد کیا۔ مائیکل فیراڈے کو اسی نے تربیت دی۔ اس کی سچی لگن نے بھی ہر طرح کی مشکل پر اسے ثابت قدم رکھا۔ محدود وسائل کے باوجود، اس نے ہمت نہ ہاری اور روزمرہ کی چیزوں کو اپنے سائنسی تجربات کے لیے استعمال کیا۔
جارج سٹیفنسن آٹھ بہن بھائیوں میں سے ایک تھا۔ غربت ایسی تھی، سبھی ایک ہی کمرے میں رہتے تھے۔ وہ پڑوسی کی گائیں چَراتا تھا۔ سترہ برس کی عمر میں اس کی ذمہ داری ایک انجن کی دیکھ بھال تھی، جس میں اس کا باپ ایندھن ڈالنے کا کام کرتا تھا۔ اس نے انجن کو ہی اپنا استاد بنا لیا۔ دوسرے کاریگر چھٹیوں کے دوران موج مستی کرتے تھے مگر جارج اپنی مشین کے پُرزے الگ کرتا، صاف کرتا، بغور مشاہدہ کرتا اور مختلف تجربات کرتا۔ یہ اس کی عزم و ہمت کا صلہ ہے کہ اس نے دنیا کی پہلی بھاپ پر چلنے والی ریل انجن بنایا۔ اسے جدید ریلوے کا بانی سمجھا جاتا ہے۔
برطانوی آرٹسٹ جیمز شارپلز اپنے وقت کا مشہور مصور تھا۔ اس کی مشہور پینٹنگ ’دی فورج‘ نے ایک عام مزدور کی زندگی کی جھلک کو فن کی اعلی ترین سطح پر پیش کیا۔ بعد میں بیشتر مصوروں نے اس پینٹنگ کی نقلیں بھی بنائیں۔ اس غریب لوہار نے بھی اپنے خواب ضرورتوں کے سمندر میں تیر کر مکمل کیے۔ وہ اکثر تین بجھے اٹھ جاتا تا کہ ان کتابوں کی نقل کر سکے جنہیں وہ خرید نہیں سکتا تھا۔ سخت محنت کر کے بھی آٹھ میل پیدل چل کر پینٹنگ کا سامان خریدنے جانا پڑتا۔ وہ لوہار کی دکان میں سب سے بھاری کام مانگتا تھا کیونکہ بھاری لوہا آگ میں زیادہ وقت لیتا ہے، اور اس دوران اسے کتاب پڑھنے کے لیے کچھ قیمتی وقت اضافی مل جاتا۔ وہ اپنے ہر فارغ لمحے کو اس طرح اپنے مطالعہ اور فن کی بہتری کے لیے استعمال کرتا جیسے شاید اسے کبھی دوبارہ یہ لمحہ میسر نہیں آئے گا۔ اسی ایک اٹل مقصد اور فولادی ارادے نے اسے کامیابی کی بلندی تک پہنچایا۔
مائیکل اینجلو نے مصوری، مجسمہ سازی اور تعمیرات میں ایسے شاہکار تخلیق کیے کہ اس کا نام دنیا کے عظٰیم اور غیر معمولی افراد میں شمار ہوتا ہے۔ جب وہ ایک سٹوڈیو میں ننگے پاوں کام کر رہا تھا، ایک بوڑھے پینٹر نے اس کے فن سے متاثر ہو کر کہا،
’ یہ لڑکا ایک دن مجھے بہت پیچھے چھوڑ جائے گا۔‘
اس عظیم فنکار نے بھی تنگدستی کی آگ میں خود کو کندن کیا۔ وہ اپنے عزم سے غربت کے اندھیروں میں بھی راستہ بناتا رہا۔ جب وہ بولونیا میں ایک کانسی کے مجسمے پر کام کر رہا تھا، تو غربت کا یہ عالم تھا، وہ اپنے چھوٹے بھائی کو اپنے پاس بلانے کی استطاعت نہ رکھتا تھا۔ اس کے پاس صرف ایک ہی بستر تھا جس پر وہ اور اس کے تین معاون آرٹسٹس سوتے تھے۔ اس نے اپنی یادگار پینٹنگ ’دی ججمنٹ‘ پر بارہ برس لگائے تھے۔
اس نے ایک بار اپنی فنکارانہ مہارت کا راز کچھ اس طرح افشا کیا،
’’اگر لوگوں کو خبر ہو جائے کہ حصولِ کمالِ فن کی خاطر مجھے کس قدر سخت محنت کرنا پڑی تو انہیں میرے کمال پر کسی طور حیرت نہیں رہے گی۔‘
اپنے آخری ایام میں ، جب اس کی نظر انتہائی کمزور ہو گئی تھی اور وہ بے حد نحیف ہو چکا تھا، وہ اکثر اپنے خادموں سے کہتا کہ وہ اسے بڑے بڑے ہالز، گیلریز اور عبادت گاہوں میں لے جائیں جہاں جہاں اس نے جوش اور لگن سے شہ پارے تخلیق کیے تھے۔
وہ مجسموں اور نقش و نگار پر اپنے ہاتھ پھیرتا، انگلیوں سے اپنے فن کی ان جزئیات کو محسوس کرتا جو اب اس کی آنکھیں نہیں دیکھ سکتی تھیں، اورپھر خوشی سے پکارتا،
’ میں اب بھی سیکھ رہا ہوں۔‘
🌹 Sharing is Caring 🌹