بغاوت میں ہی آزادی ہے۔


قدیم یونانی تہذیب نے دنیا پر اپنا گہرا اثر چھوڑا ہے۔
یونانی اساطیر مافوق الفطرت مخلوقات، انسانی ہیروز اور دیوتاوں کے مختلف قصوں پر مشتمل ہیں جو انسانی عقائد، جذبات، قدرتی مظاہر اور کائنات کی تفہیم کی علامتی کہانیاں ہیں اور آج بھی ادب اور فلسفے کی فکری غذا فراہم کرتی ہیں۔

سسیفس کورنتھ شہر کا ایک بہت ہوشیار بادشاہ تھا۔ اس نے اپنی عقل کے بل بوتے پر بارہا دیوتاوں کو دھوکا دینے کی کوشش کی۔ اس نے چالاکی سے موت کے دیوتا کو بھی قید کر لیا تھا۔ دیوتا اس سے سخت ناراض تھے۔ بالآخر دیوتاوں نے اسے عالمِ اموات میں بھیج کر ابدی اور لاحاصل مشقت میں مبتلا کر دیا۔
اسے ایک بہت بھاری پتھر پہاڑی کی چوٹی تک دھکیل کر لے جانا ہوتا۔ جیسے ہی وہ پتھر اٹھا کر چوٹی پر پہنچتا، پتھر اچانک لڑھک کر پھر سے نیچے آ جاتا۔ سسیفس کو پھر سے وہ پتھر اوپر دھکیلنا پڑتا۔ اس طرح اسے یہ کام ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دہرانا پڑتا۔ یہ ایک ایسا لاحاصل پن کا دائرہ تھا جس کا کوئی انت نہ تھا۔


کچھ تجزیہ نگاروں کے خیال میں، یہ کام کی بے معنویت نہیں تھی بلکہ اس کی یکسانیت تھی جس نے اسے سزا بنا دیا۔
اگر سسیفس ہر بار ایک مختلف پتھر کو لڑھکا سکتا، یا اسی پتھر کو مختلف پہاڑوں پر لے جا سکتا، یا وہ اسے لڑھکانے کے بہترین طریقوں کے ساتھ نئے نئے تجربات کرتا تو شاید یہ لاحاصل کام سزا نہ رہتا۔
انسان کی روح کو مارنے والی چیز دراصل کام کی کمی یا ناکامی نہیں ہوتی بلکہ تخلیقی، چیلنجنگ اور متنوع کام کی کمی ہے۔ اگر سسیفس کے پاس تبدیلی یا بہتری یا ترقی کا موقع ہوتا تو اس کی یہی سزا کھیل یا مشغلہ بن جاتی۔


جب کہ البرٹ کامیو کے نزدیک، اس حقیقت کو قبول کرنا ضروری ہے کہ یہ دنیا ہماری خواہشات کے مطابق نہیں بدلے گی۔ اس ساری بے معنویت میں آپ کی بغاوت یہی ہے کہ خود اپنے معنی پیدا کریں۔
سسفیس کو بھی اس موجودہ حالت میں یہ سوچ کر خوش تصور کیا جا سکتا ہے کہ وہ کم از کم اپنے پتھر کی قسمت سے آگاہ ہے۔ وہ ہر بار نیچے اترتے ہوئے اس لاحاصل پن کو شکست دینے کا عہد کرتا ہے کہ وہ دوبارہ اسے لے جائے گا۔ وہ حقیقت کا سامنا کرتا ہے، جانتا ہے کہ جدوجہد بے نتیجہ اور بے معنی ہے مگر وہ عمل اور کوشش سے پیچھے نہیں ہٹتا اور اپنی بغاوت میں ہی آزادی تلاش کرتا ہے۔

نتائج کی بجائے کوشش، جدوجہد اور وقار اہم ہیں۔ اپنی حالت پہچان کر کوشش جاری رکھنا، زندگی سے فرار کے بغیر پورے شعور کے ساتھ جینا، مشکلات کے باوجود انسانی وقار کی حرمت اور زندگی کی تمام بے معنویت کے باوجود زندگی سے محبت ہی بہترین بغاوت ہے۔

وہ اس سزا کو ہی اپنا مقصد بنا لیتا ہے۔ اب اس کی خوشی جدوجہد میں ہے، حتمی کامیابی میں نہیں۔ وہ حالات کو تو بدل نہیں سکتا مگر اپنی سوچ کے زاویوں کو بدل کر اپنے لیے نئے معنی کھوج سکتا ہے۔ حالات کے جبر میں یہی اس کی آزادی ہے۔


دراصل یکسانیت اور جمود، ڈپریشن اور بے معنویت کے اہم محرکات ہیں۔ سزا کام کی بے مقصدیت میں نہیں ہے بلکہ اس کی یکسانیت میں ہے۔
ہم بھی اکثر یکسانیت کا پتھر اٹھائے روز ایک ہی چوٹی پر لڑھکانے کی سزا میں مبتلا ہیں۔ سسیفس کی کہانی یہ سبق نہیں دیتی کہ محنت بے کار ہے بلکہ یہ بات سکھاتی ہے کہ بغیر جذبے اور مقصد کے کی جانے والی محنت بیکار بن جاتی ہے۔
اگر ہمیں پتھر دھکیلنا ہی ہے تو کیوں نہ ہم پتھر دھکیلنے کے نت نئے تجربات کریں، پہاڑی پر پہنچنے پر ہی توجہ مرکوز نہ کریں، راستے میں ہونے والے تجربوں کو بھی سراہیں۔ چاہے کام چھوٹا ہی کیوں نہ ہو، اس کا ایک مقصد طے کر لیں۔
یوں، مجبور ہونے کے باوجود ہم اپنی تقدیر کے مالک بن سکتے ہیں۔

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top