دنیا کا سب سے زیادہ طاقتور شخص


امریکی ناول نگار جیمز مچنز کو صدر آئزن ہاور کی جانب سے وائٹ ہاوس میں رات کے کھانے کا دعوت نامہ ملا۔ اس نے اس وضاحتی تحریر کے ساتھ ایسی غیر معمولی دعوت میں شرکت سے معذرت کر لی۔
’صدرِ محترم، آپ کے دعوت نامے سے تین روز قبل میں اپنے ہائی سکول ٹیچر کے اعزاز میں منعقد ہونے والی تقریب میں اظہار خیال کرنے کا وعدہ کر چکا ہوں، جس نے مجھے لکھنا سکھایا تھا۔ مجھے یقین ہے، آپ اپنی تقریب میں میری غیرموجودگی محسوس نہیں کریں گے مگر اس شاندار ٹیچر کو میری غیر حاضری ضرور محسوس ہو گی۔‘

صدر آئزن ہاور نے نہایت سمجھداری سے جواب دیا،
’ ایک شخص اپنی زندگی میں عموما پندرہ یا سولہ صدور کا دور دیکھ پاتا ہے، مگر ایک مثالی ٹیچر زندگی میں بمشکل ایک آدھ بار ہی میسر آتا ہے۔‘


وائٹ ہاوس سے دعوت نامہ یقینا بہت بڑا اعزاز خیال کیا جاتا ہے، مگر ایسے سبھی اعزازوں سے بڑھ کر ایک استاد کے رتبے کو عملی طور پر تسلیم کرنا کہیں زیادہ اہم ہے۔ دنیا کے طاقتور عہدے پر براجمان انسان کا دعوت نامہ عارضی شہرت دیتا ہے، مگر ایک استاد کے احسان کا اقرار ابدی اخلاقی فتح سے ہمکنار کرتا ہے اور اس بات کا درس بھی دیتا ہے کہ زندگی میں ترجیحات کا درست تعین کرنا کتنا ضروری ہے۔
مچنز اور آئزن ہاور نے ثابت کیا؛
عظمت صرف بڑے بڑ ے مناصب سے نہیں آتی بلکہ وعدے کی پاسداری اور شکرگزاری میں بھی پوشیدہ ہے۔


ایک ماہر بشریات جنوبی بحرالکاہل کے ایک چھوٹے سے جزیرے تحقیق کے لیے عارضی قیام پذیر تھا۔ ایک روز اس کا دِل چاہا، وہ ان کے سردار سے ملے۔ قبیلے کے طبیب سے اس کی گہری دوستی ہو گئی تھی۔ اس نے طبیب سے درخواست کی، وہ اسے اپنے قبیلے کے اہم ترین انسان سے شخص سے ملوائے۔
طبیب اسے جنگل کے ایک چھوٹے سے کھلے میدان میں لے گیا، جہاں ایک بزرگ آدمی کچھ بچوں کو پڑھا رہا تھا۔
’ کیا یہ تمہارا بادشاہ ہے؟‘ ماہر بشریات نے سوال کیا۔

’نہیں، بادشاہ تو اس جزیرے کا سب سے زیادہ طاقتور شخص ہے۔
آپ نے تو کہا تھا، آپ سب سے زیادہ اہم شخص سے ملنا چاہتے ہیں۔ اس لیے میں آپ کو ہمارے استاد کے پاس لے آیا۔‘



بے شک، بادشاہ طاقتور ترین تو ہو سکتا ہے مگر سب سے اہم ہستی پھر بھی استاد کی ہے جو معاشرے کی تعمیر کرتا ہے۔ روحِ انسانی کی صنعت کے اس عمارت گر کا رتبہ دنیا کی جس بھی تہذیب نے تسلیم کیا، وہ علم اور ترقی کی راہوں پر گامزن ہوئی۔
اصل اہمیت اسی کی ہے جو شعور بانٹتا ہے اور روشنی پھیلاتا ہے۔
بادشاہ، صدر یا کوئی بھی دوسرا حکمران اپنی طاقت کے زور پر محض زمین پر حکومت کرتا ہے لیکن استاد کی حکمرانی ہمیشہ لوگوں کے دِلوں پر ہوتی ہے۔

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top